کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز ایجنسی)سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن میں سنسنی خیز انکشافات، اہم سرکاری و نجی اداروں کے بیانات قلمبند ، شہر میں انگریز دور کے فائر ہائیڈرنٹس اب موجود ہی نہیں، جس کی وجہ سے پانی کیلئے صرف ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے ،چیف فائر افسر، جائے وقوعہ پر آپریشن کو لیڈ کرنے والی کوئی مشترکہ کمانڈ موجود نہ ہونے پر کمیشن کا اظہار حیرت،گل پلازہ کے صدر دوبارہ طلب، ریسکیو 1122، کے ایم سی، فائر بریگیڈ، ایدھی، چھیپا اور یونین کے بیانات ریکارڈ، شہر کے فائر سیفٹی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن نے اہم سرکاری و نجی اداروں کے بیانات قلمبند کر لئے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں ریسکیو 1122، کے ایم سی فائر بریگیڈ، ایدھی، چھیپا اور گل پلازہ یونین کے عہدیداروں نے بیانات ریکارڈ کرائے، جس میں شہر کے فائر سیفٹی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان نے کمیشن کو بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ درجہ حرارت 1200 ڈگری تک پہنچ گیا تھا اور پانی فوراً بھاپ بن رہا تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ شہر میں انگریز دور کے فائر ہائیڈرنٹس اب موجود ہی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پانی کے لئے صرف ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی چیک کرنا ایس بی سی اے اور سول ڈیفنس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تمام ریسکیو اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے قانونی کام جاری ہے۔گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگتے ہی 7 سے 8 منٹ میں بجلی بند کروا دی گئی تھی تاکہ شارٹ سرکٹ سے مزید نقصان نہ ہو۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں اور پانی جلد ختم ہو گیا۔ان کا دعویٰ تھا کہ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو جانی نقصان کم ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت میں آگ بجھانے کے 100 سے زائد سلنڈر موجود تھے، لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ قابو پانا مشکل ہو گیا۔کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکرز ہیں؟ ہائیڈرنٹس کیوں فعال نہیں؟ چیف فائر افسر سے ان کی تعلیم اور عملے کی تربیت کے بارے میں بھی سوالات کئے گئے۔کمیشن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جائے وقوعہ پر آپریشن کو لیڈ کرنے والی کوئی مشترکہ کمانڈ موجود نہیں تھی، کمیشن نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کے بعد عمارت میں اعلان کیوں نہیں کروائے گئے اور ہنگامی لائٹس کا انتظام کیوں نہیں تھا۔