• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا غزہ میں جرائم پیشہ گروہوں پر مشتمل فورس بنانے کا خواہاں

کراچی (رفیق مانگٹ)برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق وائٹ ہاؤس غزہ میں حماس کے بعد سکیورٹی نظام قائم کرنے کے لیے منظم جرائم اور منشیات فروش گروہوں سے وابستہ مسلح قبائلی دھڑوں کو نئی پولیس فورس کا حصہ بنانے پر غور کر رہا ہے، جس پر امریکی اور مغربی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ان گروہوں کے بعض ارکان کو امریکی حمایت یافتہ امن فورس کا حصہ بنانے کے خیال پر سینئر امریکی فوجی کمانڈروں کی جانب سے مزاحمت سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسے سکیورٹی ڈھانچے کی تجویز پیش کی ہے جس میں حماس مخالف مسلح ملیشیاؤں کے ارکان کو شامل کیا جائے گا۔ اسرائیل ان تجاویز کی حمایت کرتا بتایا جاتا ہے اور غزہ جنگ کے آغاز کے بعد بعض قبائلی گروہوں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کے کئی مسلح قبائل پر ماضی میں منظم جرائم، اغوا، قتل اور امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کا امن عمل قابلِ اعتماد سکیورٹی شراکت داروں کے بغیر کام نہیں کرے گا۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک، جو صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے کو عملی شکل دینے میں شامل ہیں، نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی پولیس فورس کی قیادت کے لیے مختلف نام زیر غور ہیں، جن میں بعض سابق فلسطینی اتھارٹی سکیورٹی عہدیداران بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کی تردید نہیں کی، تاہم کہا ہے کہ پولیس فورس کے لیے جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے اور حماس کو مکمل اور فوری طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید