اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) تحریک انصاف کے بانی سے ان کے کسی عزیز یا ایسے فرد سے ملاقات کی اجازت نہیں ملے گی جو اسے شر انگیزی اور اشتعال انگیزی کے لئے استعمال کرے گا۔
ماضی میں جن افراد نے ملاقات کو گمراہ کن بیانیہ کی بنیاد بنایا وہ نیک چلنی کی ضمانت تک بلیک لسٹ رہیں گے۔ بانی کو اس کے ڈاکٹروں سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا جو نہ صرف متنازع ہو چکے ہیں بلکہ وہ بانی کے اسپتال میں ملازم ہونے کی وجہ سے اس کے ماتحت ہیں اور بانی کی مرضی اور مفاد کے منافی کوئی بیان نہیں دے سکیں گے۔
حد درجہ قابل اعتماد ذرائع نے جنگ، دی نیوز کو بتایا کہ حکومتی اداروں کو پتہ چلا ہے کہ آنکھ کا کارڈ ناکام ہوجانے کے بعد اب نئے ’’اسکینڈل‘‘ کو جنم دیا جائے گا جس میں بانی کو کسی انتہائی سنگین مرض میں مبتلا ظاہر کیا جائے گا۔
اب نیا مطالبہ یہ سامنے آیا ہے کہ بانی کے خون کے نمونے اس کے افراد خانہ کے سامنے حاصل کئے جائیں اور اس کی پسندیدہ لیبارٹریز سے ان کا تجزیہ حاصل کیا جائے۔
بانی تحریک کا کہنا ہے کہ اسے حکومتی معالجین اور سرکاری لیبارٹریز پر اعتماد نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی نئی تھیوری کے مطابق بانی تحریک کو جیل میں زہر دیا جا رہا ہے۔
حکومتی اداروں کے پاس امر کا ثبوت موجود ہے کہ خان کی ایک بہن کو جب بتایا گیا کہ آنکھ کا علاج درست ہورہا ہے اور بانی روبصحت ہیں تو اس خاتون نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ اس بات کو تسلیم ہی نہ کیا جائے ورنہ ہمارا ایشو ختم ہو جائے گا۔