• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی ہاکی میں بغاوت، کھلاڑیوں کا کھیلنے سے انکار، پی ایچ ایف کا رابطہ

کراچی( نصر اقبال،اسٹاف رپورٹر) پاکستان ہاکی میں کھلاڑیوں نے ٹیم انتظامیہ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ان کی کوچنگ میں کھیلنے سے انکار کردیا، پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کو ملاقات کے لئے رابطہ کیا ہے، تاہم کھلاڑیوں نے اپنے فون بند کردئیے ہیں، پرو ہاکی لیگ میں کھلاڑیوں کو ہوبارٹ میں ناقص رہائش کی فراہمی کے بعد وطن واپسی پر کھلاڑی پھٹ پڑے، دریں اثناء ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے کھلاڑیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے 15گھنٹے سڑکوں پر گذارنے کی اطلاعات درست نہیں، ناقص رہائش کی خبروں پر وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر انکوائری شروع کردی گئی ہے جبکہ پی ایچ ایف نے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی، وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ ،نائب کپتان حنان شاہد اور دیگر کھلاڑیوں نے میڈیا سے بات چیت میں حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہمیںغیر معیاری رہائش فراہم کی گئی، لڑکے اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے رہے۔ کھلاڑیوں نے موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کا فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ ہمارے پاس ورلڈکپ کوالیفائنگ رائونڈ میں شرکت کے لیے مصر جانے کا بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے، عماد بٹ نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں سےآسٹریلیا میں کچن،برتن،کپڑے،باتھ روم صاف کرائے گئے، کھانا خود پکایا،سڑکوں پر رہے۔پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے کہا کہ صبح اُٹھ کر کچن اور برتن صاف کرنے کے بعد کھلاڑی میدان میں کیا کھیلے گا؟ جو ہم سے زیادتیاں ہوئی ہیں وہ ہم جانتےہیں، ہمیں کہاگیاکہ پلئیر تین وقت کا کھانا 115ڈالر میں کھائیں گے۔عماد بٹ نے کہا ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے بہت جھوٹ بولا ۔ موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ بالکل کام نہیں کرسکتے۔ عماد بٹ نے کہا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوڈ آف کنڈکٹ نہیں مانتے، مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ جو زیادتی ہوئی اس کا نوٹس لیا جائے۔عماد بٹ نے زور دیا کہ ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے، ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ باہر کوئی بات نہیں کریں گے ورنہ پابندی لگ جائے گی۔دیگر کھلاڑیوں نے کہاکہ آسٹریلیا میں سڑکوں پر رہے، ٹیم کا مورال ختم ہوچکا تھا،دوسری جانب پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کو مدعو کیا ہے مگر وہ بات چیت پر تیار نہیں ہیں۔
اہم خبریں سے مزید