پشاور(ارشدعزیز ملک )یونیورسٹی آف ہری پور میںسنگین بے قاعدگیوں اوربے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں تقرریوں اورترقیوں میں میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے من پسند افراد کو نوازاگیا ۔قابل امیدوار کو انٹرویومیں کم نمبر دیکر غیر مستحق امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ۔یونیورسٹی ترجمان کےمطابق بھرتیاں، ترقیاں اور انتظامی تقرریاں یونیورسٹیز ایکٹ اور سنڈیکیٹ سے منظور شدہ قواعد کے تحت کئےجاتے ہیں، اساتذہ اور انتظامی عملے نے ایک تفصیلی خط چانسلر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، پرو چانسلر، اور وزیر ہائر ایجوکیشن کولکھا ہے جس میں فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیکر بے ضابطگیوں کی تحقیقات کامطالبہ کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق شعبہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، فارسٹری اینڈ وائلڈ لائف، اکنامکس، آئی ٹی، سائیکالوجی، تاریخ و سیاست، اور کیمسٹری میں میرٹ کے برعکس بھرتیاں کی گئیں ۔سلیکشن بورڈ 2025 میں چانسلر کے نامزد رکن کی غیر موجودگی کے باوجود 58 تقرریاں کی گئیں۔ پی ایچ ڈی کے حامل امیدواروں کو تقرری اور پروموشن سے محروم کیا گیا، جبکہ ایم فل کے امیدواروں کو منتخب کیا گیا ۔۔ کئی اہل پی ایچ ڈی امیدواروں کو نظرانداز کیا گیا جبکہ غیر پی ایچ ڈی یا کم تجربہ رکھنے والے امیدوار منتخب کیے گئے۔۔چند نمایاں کیسز میں تجربہ کار یونیورسٹی اساتذہ کو نظرانداز کر کے بیرونی امیدواروںکو منتخب کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق انٹرویو کے نمبروں کی تقسیم نے میرٹ کی درجہ بندی کو شدید متاثر کیا، جس سے قابل امیدوار پیچھے رہ گئے اور کم قابل امیدوار منتخب ہو گئے۔ آئی ٹی میں ڈاکٹر داوڑ میرٹ میں اول نمبر پر تھے جنہوں نے چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے پی ایچ ڈی حاصل کی اور بین الاقوامی اداروں میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق مکمل کی۔ انہیں مبینہ طور پر انتہائی کم نمبر دیے گئے تاکہ انہیں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے منتخب نہ کیا جا سکے، جبکہ ساتویں نمبر کے ڈاکٹر یوسف کو گریڈ 20میں ایسوسی ایٹ پروفیسر منتخب کرلیا گیا ۔ایک اور کیس میں محمد طفیل، جو پبلک پالیسی اور گورننس میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں، جنہوں نے اپنے تعلیمی کیریئر میں گولڈ میڈلز حاصل کیے، 18 سال سے باقاعدہ تدریس کے تجربے (BPS-18) کے حامل ہیں اور شعبہ کے بانی سربراہ بھی رہ چکے ہیں، کو انٹرویو میں سب سے زیادہ نمبردے گئے، لیکن تدریسی ڈیموسٹریشن میں کم نمبر دیکر حتمی انتخابی فہرست سے خارج کردیا گیا ۔شعبہ کیمسٹری میں بھی ڈاکٹر اشرف کو کم نمبر والے امیدوار کو ترجیح دینے کے باعث خارج کیا گیا۔انتظامی تقرریاں اور کوٹہ کی خلاف ورزیاںکے الزامات بھی سامنے آئے ہیں ۔ معذور اور اقلیتی امیدواروں کے لیے لازمی کوٹہ کو بھی نظرانداز کیا گیا۔کئی عہدے مجاز تعداد سے زیادہ مشتہرکئے گئے، ۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف ہری پور کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام امور بشمول بھرتیاں، ترقیاں، مالیاتی معاملات، امتحانی نظام، خریداری کا عمل، ٹرانسپورٹ اور انتظامی تقرریاں مکمل طور پر یونیورسٹیز ایکٹ اور سینڈیٹ اور سنڈیکیٹ سے منظور شدہ قواعد و ضوابط کے تحت سرانجام دیے جاتے ہیں۔قانون اور منظوری شدہ ضوابط کے مطابق ان امور کی انجام دہی یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور انتظامیہ اس سلسلے میں متعلقہ فورمز اور مجاز اتھارٹیز کے سامنے جواب دہ ہے۔ ہر فیصلہ باقاعدہ کمیٹیاں، سلیکشن بورڈز اور مجاز ادارہ جاتی فورمز کی سفارشات اور منظوری کے بعد کیا جاتا ہے، جن کی مکمل کارروائیاں قواعد کے مطابق ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہیں۔جہاں تک مختلف تقرریوں، ترقیوں یا بھرتی کے دوران دیئے گئے نمبروں کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کا تعلق ہے، یونیورسٹی اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ سلیکشن بورڈ کے فیصلے متعلقہ قواعد، طے شدہ معیار اور مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جن میں تعلیمی اسناد، تجربہ، تحقیقی کارکردگی، انٹرویو اور دیگر مقررہ پیمانے شامل ہوتے ہیں۔ ان معاملات میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے اگر کسی فرد یا گروہ کو کسی معاملے پر تحفظات ہوں تو یونیورسٹی کے پاس باقاعدہ اپیل اور نظرثانی کے قانونی فورمز موجود ہیں۔