• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیکا ایکٹ کیس؛ ججوں کیخلاف بیان بازی پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی؛ جسٹس نعیم اختر

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان نے پیکا کے استعمال اور تفتیشی طریقہ کار پرریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ اس قانون کے تحت صرف ایک مخصوص ادارے کے لیے کام کیا جا رہا ہے، جبکہ ججوں کے خلاف ہونے والی بیان بازی پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ، اگر 2018 میں آر ٹی ایس نہ بیٹھتا تو آج ہمیں ففتھ جنریشن وار جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔عدالت نے پیکا کے تحت درج مقدمے میں گرفتار صحافی سہراب برکت کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیدیا ،جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے درخواستِ ضمانت پر سماعت کی ۔ دورانِ سماعت فاضل جج نے استفسار کیا کہ ملزم سہراب برکت نے تو انٹرویو کے دوران کچھ نہیں بولا ، جس نے بولا(صنم جاوید) ہے وہ سامنے نہیں ، ہم سہراب برکت کو بری نہیں کر رہے ہیں، آپ مقدمہ چلا کر سزا دلوا دینا۔ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقدمہ کی مرکزی ملزمہ صنم جاویدہے لیکن میراموکل نومبر 2025 سے قید میں ہے ،چالان جمع ہو چکا ہے مگر اس تک رسائی نہیں دی گئی ،ابھی تک فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور نہ ہی باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا ہے،دوسری جانب تفتیشی افسر نے بتایا کیا کہ ملزمہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل کر کے سپلیمنٹری چالان جمع کرا دیا گیا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ صنم جاوید سب کو مروا کر چھوڑے گی،یاد رہے کہ ملزم سہراب برکت کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ درج ہے اور وہ وہ لاہور کی کوٹ لکھ پت جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہے۔
اہم خبریں سے مزید