• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہلی AI سمٹ، چینی روبوٹ کتے کو بھارتی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دینے پر ہنگامہ

کراچی (نیوز ڈیسک) دہلی اے آئی سمٹ میں چینی روبوٹ کتے کو بھارتی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دینے پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ایک بھارتی پروفیسر کی جانب سے چینی ساختہ روبوٹ کتے کو اپنی یونیورسٹی کی تخلیق قرار دینے پر شدید تنقید شروع ہوگئی، جسے سیاسی حلقوں نے "شرمناک" قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد بھارتی نیورسٹی نے وضاحتی بیان جاری کیا جس میں کہا یہ ربورٹ ادارے نے تیار نہیں کیا۔ یہ واقعہ نئی دہلی میں ہونے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پیش آیا، جہاں نجی تعلیمی ادارے کے اسٹال پر چاندی رنگ کا روبوٹک کتا نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔ یہ ماڈل دراصل چینی اسٹارٹ اپ کمپنی Unitree کی تیار کردہ مشین ہے۔ ٹی وی انٹرویو کے دوران ایک پروفیسر نے روبوٹ کتے کو اورائن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے یونیورسٹی کے سینٹرز آف ایکسیلینس نے تیار کیا ہے۔ روبوٹ نے کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلانے اور پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونے جیسے کرتب بھی دکھائے۔ سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے یہ روبوٹ تیار نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے، البتہ یونیورسٹی ایسے ذہن تیار کر رہی ہے جو مستقبل میں اس نوعیت کی ٹیکنالوجی ڈیزائن اور تیار کرسکیں گے۔ نئی دہلی میں ہونے والی اے آئی سمٹ میں بھارتی یونیورسٹی پر چینی کمپنی Unitree کا روبوٹ اپنے نام سے پیش کرنے کا الزام کے بعد Galgotias University کو نمائش کا اسٹال خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بدھ کے روز یونیورسٹی کے نمائندوں کو ایکسپو چھوڑنے کی ہدایت کی گئی، کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
اہم خبریں سے مزید