کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر کی مرکزی اور اہم شاہراؤں پر روزانہ ٹریفک جام بالخصوص رمضان المبارک میں مسلسل اور بدترین ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات و پریشانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی، مجرمانہ غفلت او ربے حسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سندھ حکومت و متعلقہ اداروں کی نااہلی نے کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام روز کا معمول بنا دیا ہے اور کراچی کے لاکھوں شہری روزانہ شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں، شہریوں کا کوئی پر سان حال نہیں، رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ عوام کے لیے زحمت بن گیا ہے،شہر میں ایک طرف تباہ حال انفرا اسٹرکچر اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں اور دوسری طرف نا مکمل ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے عذاب جان بنے ہوئے ہیں، سڑکوں کی خستہ حالی، حکومتی سرپرستی میں سڑکوں پر قائم تجاوزات اور ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل نے شہر کی تقریباًہر سڑک اور شاہراہ کو شدید متاثر کیا ہوا ہے، پیپلز پارٹی 18سال سے سندھ پر مسلط اور کراچی کے اداروں اور وسائل پر قابض ہے، بد قسمتی سے کراچی ملک کا وہ واحد شہر ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کے تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائین نہیں، منصوبے شروع تو ہوجاتے ہیں لیکن ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، ریڈ لائین منصوبے کے نام پر پورا یونیورسٹی روڈ کھود دیا ہے، کریم آباد انڈر پاس مکمل ہو رہا ہے نہ جہانگیر روڈ اس قابل ہو پارہا ہے کہ وہاں سے ٹریفک با آسانی گزر جائے، جہانگیر روڈ5سال میں چوتھی مرتبہ تعمیر ہو رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، ریڈ لائین و گرین لائین منصوبوں اور کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر میں مسلسل تاخیر کے باعث بھی یہ منصوبے اپنی اصل لاگت سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں، بجٹ میں اربوں روپے سڑکوں کی استر کاری کے لیے رکھے جاتے ہیں لیکن استر کاری ہوتے ہی بہتے گٹراور سیوریج کے پانی سے یہ سڑکیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں، یہ بدترین صورتحال اہل کراچی کا مقدر بن گئی ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت اور قابض میئر پر عائد ہوتی ہے۔