• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3 افغان صوبوں پر فضائی حملے، پاکستانی طیاروں کی ٹارگٹڈ کارروائی، 7 مراکز تباہ، 80 دہشتگرد ہلاک، بیشتر پاکستانی

اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ/ ایجنسیاں) پاکستان میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈفضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار‘ پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اورداعش خراساں کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی طیاروں کی ٹارگٹڈ کارروائی میں ننگرہار‘ پکتیکااورخوست کے سرحدی علاقوں میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے وابستہ دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ادھر جیونیوزکے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگوکرتے ہوئے وزیرمملکت برائےداخلہ طلال چوہدری کا کہناتھاکہ پاکستان کی کارروائی میں مارے گئے بیشتر دہشتگرد پاکستانی تھے‘پاکستان اپنے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ہرطرح کی کارروائی کرر ہا ہے جبکہ وفاقی وزارت اطلاعات نے کہاہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور پھر دوبارہ بنوں میں ہی ماہ رمضان کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر کیں‘وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی۔ پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دینے کی کوششوں کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے واضح اقدامات کرے‘ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ اور غیر ملکی پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس سب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے جوابی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے ایف اے کے اور اس سے وابستہ تنظیموں اور آئی ایس کے پی کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو پاک افغان سرحدی علاقے میں انتہائی درستگی کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ تباہ کیے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبردو ننگرہار خارجی مولوی عباس مرکزخوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار شامل ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق تباہ کیے گئے مراکز میں خارجی ابراہیم مرکزننگرہار،خارجی ملارہبرمرکزپکتیکا اور خارجی مخلص یارمرکز پکتیکا بھی شامل ہے۔

اہم خبریں سے مزید