• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ نافذ کیا ہے جس پر پوری دنیا تنقید کر رہی ہے، یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ 90صفحات پر مشتمل اس نئے قانون کے تحت 2009ءمیں سابقہ حکومت کے دور میں بنایا گیا خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کا قانون منسوخ کر دیا گیا ہے اور خواتین، بچوں پر گھریلو تشدد کو قانونی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے خواتین اور اقلیتوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا ہے جبکہ افغانستان میں اسلام کے نام لیوا طالبان ایسے قوانین وضع کر رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ افغانستان میں بننے والے نئے قانون کے تحت ایسا تشدد جائز قرار دیا گیا ہے جس سے جسم کی ہڈی نہ ٹوٹے یا کوئی کھلا زخم نہ آئے ۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر تشدد اس حد تک شدید ہو کہ اس سے ہڈی ٹوٹ جائے یا واضح فریکچر ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس قانون میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کی صورت میں اگر بیوی کے ہاتھوں شوہر کی ہڈی ٹوٹ جائے تو اس کیلئے کیا 15 دن قید کی سزا ہو گی؟ یا یہ سزا پندرہ سال تک چلی جائیگی؟ شرمناک بات یہ ہے کہ قانون بنانے والوں نے کسی اسلامی حکم کا حوالہ نہیں دیا، یہ یکطرفہ قانون ہے جو صرف خواتین اور بچوں کے خلاف بنایا گیا ہے، اس قانون کی ایک ایک شق قابل اعتراض ہونے کیساتھ ساتھ شرمناک بھی ہے۔

اس قانون میں متاثرہ خاتون کیلئے عدالت میں تشدد ثابت کرنے کی شرائط بھی بتائی گئی ہیں جس کے مطابق خاتون کو مکمل پردے میں رہتے ہوئے جج کو اپنے زخم دکھانے ہوں گے جو مکمل پردے میں ہونے چاہئیںاور عدالت میں شوہر یا کسی مرد سرپرست کی موجودگی لازمی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب متاثرہ خاتون جسم پر لگنے والا زخم جج کو دکھائے گی تو کیا پردہ رہے گا؟ اس موقع پر شوہر اور والدین کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے حالانکہ زخم دکھانے کی صورت میں جب بے پردگی ہو گی تو پھر موجودگی کا ہونا اور بھی باعث شرم ہے۔

یہ قانون سازی حماقت خیز ہونے کے ساتھ ساتھ غیر منصفانہ امتیازی قوانین کے زمرے میں بھی آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی قانون سازی پر افغانستان میں موجود اسلام اور انصاف پسند علماء کیوں خاموش ہیں ؟ نئے بننے والے قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ قوانین صرف یکطرفہ کیوں بنائے جا رہے ہیں اگر مرد اپنی بیوی کو اس حد تک تنگ کر دے کہ اس کا اپنے گھر میں رہنا محال ہو جائے تو پھر وہ کیا کرے ؟ وہ خودکشی کرے یا جیل جائے؟

اسلام میں جزا سزا کا قانون سب کیلئے برابر ہے، اسلام نے ہر طرح کی طبقاتی تقسیم کی نفی کی ہے جبکہ افغانستان کے نئے ضابطے کا آرٹیکل 9 افغان معاشرے کو 4 طبقات میں تقسیم کرتا ہے، جن میں علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ شامل ہے، اس نظام کے تحت ایک ہی جرم کی سزا کا تعین جرم کی نوعیت یا سنگینی کے بجائے ملزم کی سماجی حیثیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔نہایت افسوسناک بات یہ ہے کہ دھڑلے کے ساتھ علماء ، اشرافیہ اور نچلے طبقے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہنا غیر اسلامی کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی اور غیر انسانی بھی ہے کہ جرم کی سزا کا تعین سنگینی یا نوعیت کی بجائے ملزم کی سماجی حیثیت کی بنیاد پر ہوگا، اس کالے قانون کو جنگل کے قانون کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اسلام کے نام لیوا نام نہاد افغان طالبان ہمارے عظیم مذہب اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ پورے عالم اسلام میں رہنے والے علماء کو ان قوانین کیخلاف آواز بلندکرنی چاہئے کہ ظلم تو یہ ہے کہ اس قانون کے مطابق اگر کوئی عالمِ دین جرم کا ارتکاب کرے تو اسے محض نصیحت تک محدود رکھا جائے گا، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فرد کو عدالت میں طلب کر کے مشورہ دیا جائے گا، متوسط طبقے کیلئے اسی جرم پر قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو قید کے ساتھ جسمانی سزا بھی دی جا سکے گی۔

نئے افغان قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنگین جرائم میں جسمانی سزا کا نفاذ اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء کریں گے۔یہ دراصل علماء کو بدنام کرنے کی بھونڈی سازش ہے ۔ عجب بات ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون (EVAW) منسوخ کر دیا گیا ہے، حالانکہ 2009ء میں بننے والا افغانستان کا قانون بھی انسانی خصوصاً خواتین کے حقوق کی مکمل پاسداری نہیں کرتا تھا، اس کے باوجود بھی اسے برداشت نہیں کیا گیا۔ نجانے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ ہمارے مذہب نے 14سو سال پہلے خواتین کو شرف انسانی بخشا تھا، یہ لوگ زمانہ جاہلیت سے پیچھے کہاں تک لیجانا چاہتے ہیں؟ موجودہ افغان طالبان کو لانیوالے ٹرمپ اور تحریک انصاف والے کیوں خاموش ہیں؟ غیر انسانی قوانین کیخلاف اگر بروقت آواز بلند نہ کی گئی تو یہ معاشرہ جو پہلے ہی خرافات کا شکار ہے مزید تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ افغانستان میں اسلام کے دعوے داروں کو چوری ، ڈکیتی ، منشیات کی آبیاری، قتل اور دہشت گردی کیخلاف قانون سازی کرنی چاہئے نہ کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جو غیر انسانی کلچر کے فروغ کا باعث بنیں۔

تازہ ترین