اشک آباد (نیوز ڈیسک) ترکمانستان کے سابق صدرگربنگولی بردی محمدوف نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا بنیادی ہدف اپنے وسیع گیس ذخائر، جو دنیا میں چوتھے بڑے ذخائر ہیں کی برآمدات میں تنوع لاکر علاقائی توانائی کا نقشہ بدلنا ہے ۔تاپی پائپ لائن کے ذریعہ پاکستان اور بھارت کو گیس فراہمی ہدف ہے لیکن پاک بھارت تناؤ سمیت علاقائی کشیدگی چیلنج ہے۔سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بردی محمدوف نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کو تاپی پائپ لائن منصوبے میں شرکت کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ پائپ لائن ترکمانستان کی گیس کو توانائی کی ضرورت رکھنے والی منڈیوں افغانستان، پاکستان اور بھارت تک پہنچائے گی۔تقریباً 70 لاکھ آبادی پر مشتمل زیادہ تر صحرائی ملک ترکمانستان کی گیس برآمدات پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے محدود رہی ہیں۔ بیرونِ ملک فروخت کی جانے والی زیادہ تر گیس چین کو جاتی ہے۔بردی محمدوف 2007 سے 2022 تک صدر رہے، جب انہوں نے اپنے بیٹے Serdar Berdimuhamedow کے حق میں عہدہ چھوڑ دیا۔ وہ اب بھی ترکمانستان کے قومی رہنما کے طور پر بااثر ہیں۔ترکمانستان کا کہنا ہے کہ وہ 2026 کے آخر تک پائپ لائن کا پہلا حصہ، جو افغان شہر ہرات تک جائے گا، مکمل کر لے گا۔ تاہم پائپ لائن کو مزید جنوب کی جانب بڑھانے کے لیے منصوبہ اعلان نہیں کیا گیا۔بردی محمدوف کے مطابق، اس منصوبے کی حمایت امریکا کر رہا ہے، لیکن اسے افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ کشیدگی پر قابو پانا ہوگا۔ گزشتہ سال ان ممالک کی مشترکہ سرحدوں پر مہلک جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔