بغداد (اے ایف پی) — عراق کے نئے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد عراق کی تیل برآمدات میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے اور اپریل 2026 کے دوران ملک صرف ایک کروڑ بیرل تیل برآمد کر سکا۔بغداد میں وزارتِ تیل کا منصب سنبھالنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عراق اس سے قبل ہر ماہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا تھا، تاہم جاری جنگ اور سمندری راستوں میں رکاوٹ کے باعث اپریل میں یہ مقدار انتہائی کم ہو گئی۔عراق، جو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا بانی رکن ہے، اپنی زیادہ تر خام تیل برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اہم بحری گذرگاہ کی بندش کے بعد خلیجی خطے کے دیگر ممالک کی طرح عراق کو بھی متبادل راستے تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔