واشنگٹن (اے ایف پی) ایران کے ہتھیارنہ ڈالنے پرصدرٹرمپ شدید مایوسی کا شکار، امریکی سفیر اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ ایران امریکی فوجی دباؤ کے باوجود کیوں ’’سرنڈر‘‘ نہیں کر رہا۔ واشنگٹن نے جوہری معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے دو طیارہ بردار جہاز، لڑاکا طیارے اور ہتھیار خلیج میں بھیجے ہیں۔ ایران کی پابندیوں کے خاتمے کی کوشش، وٹکوف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صدر جاننا چاہتے ہیں کہ ایران نے اتنے دباؤ کے باوجود مذاکرات میں کیوں پیش رفت نہیں کی اور ابھی تک اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح موقف کیوں نہیں اختیار کیا۔ امریکی سفیر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی سے ملاقات کی، جو ملک سے باہر ہیں اور موجودہ حکومت کے ناقد ہیں۔ رضا پہلوی نے گزشتہ ہفتے میونخ میں کہا کہ وہ ملک کو ایک ’’سیکولر جمہوری مستقبل‘‘ کی طرف لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کا مسودہ چند دنوں میں تیار ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو زیادہ سے زیادہ 15 دن میں معاہدہ کرنے کا انتباہ دیا ہے، جبکہ ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا الزام لگاتے ہیں، جسے تہران مسترد کرتا ہے، مگر وہ شہری مقاصد کے لیے افزودگی کے حق پر اصرار کرتا ہے۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کی مذاکراتی کوشش کر رہا ہے، جو اس کی معیشت پر شدید اثر ڈال رہی ہیں اور دسمبر میں حکومت مخالف احتجاج کا سبب بنی ہیں۔