کراچی (اسٹاف رپورٹر) رمضان المبارک کے ابتدائی 4روز کے دوران مبینہ گیس لیکیج کے نتیجے میں دوسرا خوفناک دھماکہ،نارتھ ناظم آباد میں گیس لیکیج کے باعث آگ اور دھماکہ کے نتیجے میںایک کم عمر لڑکا جاں بحق اور خاتون اور بچی سمیت 4افراد زخمی ہوگئے ،دھماکہ فجر کے قریب پیش آیا جبکہ خوفناک دھماکہ کے نتیجے میں فلیٹ مکمل تباہ ہوگیا ،تفصیلات کے مطابق ناتھ ناظم آباد تھانہ کی حدود بلاک Eحیدری مارکیٹ کے قریب واقع رہائشی عمارت بسم اللہ ٹیرس کے10ویں منزل پرواقع فلیٹ نمبر 1004 میں اتوار کو رمضان المبارک کی چوتھی سحری کے وقت آگ کے بعد زور دار دھماکہ ہوگیا ، دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ اس کی آواز لیاقت آباد ،بفر زون،گلشن اقبال اور شہر کے مختلف علاقوں میں سنائی دی گئی ،جس کے باعث متاثرہ عمارت سمیت اطراف کے مکین خوف زدہ ہوگئے اور اپنے گھروں سے باہر نکل آئے،دھماکہ کے نتیجے میں ۱۵ سالہ مصطفیٰ ولد عون علی جاں بحق جبکہ ۴۰ سالہ عنید عباس ولد فضل عباس،۳۰ سالہ فاطمہ زوجہ عنید عباس ،۴سالہ انیسہ دختر عنید عباس اور ۷۰ سالہ تسلیم زخمی ہوگئیں،جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ،دھماکہ کے نتیجے میں فلیٹ پوری طرح تباہ ہوگیا جبکہ فلیٹ کی بالکونی کا ملبہ کئی میٹر دور کھڑی گاڑیوں اور سامنے واقع فلیٹ کی کھڑکیوں پر جاکر لگا جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ اور فلیٹوں کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ، واقعے کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پرپہنچ کر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا ،پولیس نے فائر بریگیڈ کے راستے میں موجود کھڑے لوگوں کو ہٹا کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے رضا کاروں اور گاڑیوں کے لئے راستہ کلیئر کرایا ،فائر بریگیڈ حکام نے موقع پرپہنچ کر فلیٹ میں رہائش پزیر لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر علاج معالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا اور طویل جدوجہد کے بعد فلیٹ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ،ڈی ایس پی نارتھ ناظم آباد اطہر ملک نے بتایا ہےکہ فلیٹ نمبر ۱۰۰۴ میں گیس لیکیج کے باعث دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں فلیٹ نمبر ۱۰۰۵ کی دیوار گرگئی اور دیوار کے ملبے تلے دب کر مصطفیٰ جاں بحق ہوگیا ،فلیٹ نمبر ۱۰۰۴ میں عنید عباس انکی والدہ تسلیم ،زوجہ فاطمہ اور بیٹی انیسہ رہتی تھیں جو حادثہ میں جھلس کر زخمی ہوئے جبکہ فلیٹ نمبر ۱۰۰۵ میں عون علی ،انکی اہلیہ اور دو بیٹے مصطفیٰ اور برہان رہتے تھے جن میں مصطفیٰ حادثہ کے نتیجے میں دیوار کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگیا۔ڈی ایس پی اطہر ملک نے بتایا ہے کہ ممکنہ طورپر فلیٹ کے میں گیس پریشر کو بڑھانے کے لئے کمپریسر کا استعمال کیا جارہا ہو جس میں لیکیج کے باعث دھماکہ ہوا ہو تاہم اس سلسلہ میں مختلف اداروں کی مدد سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں ،دھماکہ کے نتیجے میں فلیٹ کی دیواریں گر گئیں اور گیزر پھٹ گئے ،واضح رہے کہ دھماکہ کے بعد پولیس نے ایس بی سی اے کی مدد سے3 منزلوں میں واقع فلیٹوں کو سیل کردیا،واضح رہے کہ رمضان المبارک کی پہلی سحری میں سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکہ کے نیتجے میں پوری عمارت زمین بوس ہوگئی تھی اور واقعے میں 17 افراد جاں بحق ہو ئے تھے ۔