• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، وزارت خزانہ

اسلام آباد(کامرس رپورٹر ) پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، بیرونی قرضوں پر سود کی 8فیصد ادائیگی کا تصور درست نہیں ، وزارت خزانہ کے جاری اعلامیہ کےمطابق مجموعی 138 ارب ڈالر کی رقم میں نجی اور دیگر واجبات بھی شامل ہیں جبکہ بیرونی عوامی (حکومتی) قرض 92 ارب ڈالر ہے، جس پر اوسط سود 4 فیصد بنتا ہے؛ سود کی ادائیگیوں میں حالیہ اضافہ عالمی شرحِ سود میں تیزی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل کردہ فنڈنگ کے تناظر میں ہوا، لہٰذا بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود کی ادائیگی کا تاثر درست نہیں۔اپنے اعلامیہ میں وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات اس وقت 138 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم اس رقم میں صرف حکومتی قرض شامل نہیں بلکہ اس میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک سیکٹر اداروں (ضمانت شدہ اور غیر ضمانت شدہ) کے قرضے، بینکوں کی بیرونی ذمہ داریاں، نجی شعبے کے قرضے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کمپنیوں کے باہمی واجبات بھی شامل ہیں۔ اس لیے اس مجموعی رقم کو بیرونی عوامی (حکومتی) قرض سے الگ سمجھنا ضروری ہے، جو تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔اسی طرح کل بیرونی عوامی قرض کا تقریباً 75فیصد حصہ کثیرالجہتی اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل مدتی قرضوں پر مشتمل ہے۔ صرف تقریباً 7 فیصد قرض کمرشل بنیادوں پر لیا گیا ہے جبکہ مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔ اس صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود ادا کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر بیرونی عوامی قرض پر اوسط شرح سود تقریباً 4 فیصد ہے، جو زیادہ تر رعایتی قرضوں کی عکاسی کرتی ہے۔سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے بیرونی عوامی قرض پر سود کی رقم مالی سال 2022 میں 1.99 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہو گئی، جو 80.4 فیصد اضافہ بنتا ہے، نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا۔ اسی عرصے میں سود کی ادائیگیوں میں 1.60 ارب ڈالر اضافہ ہوا، نہ کہ 1.67 ارب ڈالر۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق متعلقہ مدت میں مختلف قرض دہندگان کو ادائیگیاں اس طرح رہیں: آئی ایم ایف کو مجموعی طور پر 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں سے 580 ملین ڈالر سود تھا،نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 94 ملین ڈالر سود شامل تھا؛ ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 615 ملین ڈالر سود تھاعالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 419ملین ڈالر سود شامل تھاجبکہ بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 327ملین ڈالر سود تھا۔اگرچہ سود کی ادائیگیوں میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے۔

اہم خبریں سے مزید