واشنگٹن(نیوز ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ وہ ممکنہ طور پر جمعرات کو جنیوا سوئٹزرلینڈ میں امریکی ایلچی اسیٹوٹ کوف سے ملاقات کریں گے،غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات میں ہی ہے،عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کے جوہری معاملے پر سفارتی حل کا یہ ایک اچھا موقع ہے،انہوں نے واضح کیا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دیگر راستے بھی کھلے ہیں،واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ ایران نے جوہری تجاویز کا مسودہ بھیج دیا تو ایران، امریکا مذاکرات جمعے کو ہو سکتے ہیں۔امریکی حکام کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدے کی مفصل ایرانی تجاویز 48 گھنٹوں میں مل جائیں تو جمعے کو مذاکرات متوقع ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکرات کار جنیوا میں ایران جوہری مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تیار ہیں۔ادھر برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا کہ جوہری مذاکرات میں ایران نے امریکا کو اپنی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی۔رپورٹ کے مطابق ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں زیر غور معاشی پیکیج میں امریکا کو سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، تاہم ایران اپنے تیل اور معدنی وسائل کا کنٹرول کسی کے حوالے نہیں کرے گا۔ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکا ایران کا صرف معاشی شراکت دار ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، امریکی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس فیلڈ میں ہمیشہ ٹھیکے دار کے طور پر ہی کام کرسکیں گی۔ایرانی عہدیدار نے کہا کہ پُرامن جوہری افزودگی کے بدلے ایران علاقائی افزودگی کنسورشیم کے قیام پر غور کر سکتا ہے۔