اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے 76 سالہ بزرگ مجرم محمد ممتاز کی دوہرے قتل کی سزا کو موت سے عمر قید میں بدل دیا۔ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ غیر منصوبہ بند جھگڑے کا نتیجہ تھا اور انصاف کے تقاضے عمر قید کی سزا سے پورے ہوتے ہیں۔ باقی تمام سزائیں اور جرمانے برقرار رہیں گے۔تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 348/2024کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔فیصلے میں کہا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات اور میڈیکل شواہد مکمل طور پر مستند اور ہم آہنگ ہیں تاہم مجرم کی بڑھتی عمر کو رحم دلی کا عنصر سمجھتے ہوئے موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا ہے۔9 مارچ 2015 کی صبح تقریبا 7:30 بجے، دیرہ سودھی مڑی میں شاکی محمد رمضان، انکے بھائی قادر یار اور والدہ خاتون بی بی مویشی لے جا رہے تھے۔ اسی دوران محمد ممتاز کی اہلیہ مریم بی بی نے وہاں آ کر جھگڑا شروع کر دیا۔ محمد ممتاز نے 12 بور رائفل سے خاتون بی بی اور بتول بی بی کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ وقوعہ کا پس منظر غیر منصوبہ بند جھگڑا تھا اور مجرم کی عمر تقریبا 76 سال ہے، جس کو عدالت نے رحم دلی کی بنیاد قرار دیا۔ قتل کی دوہری سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔ باقی تمام سزاوں اور جرمانے برقرار ہیں۔ سزائیں ایک ساتھ (concurrent) چلیں گی اور قانونی مراعات دی جائیں گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اقدام انصاف اور انسانی ہمدردی دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ قانون اور اخلاقی تقاضے دونوں پورے ہوں۔