کراچی (نیوز ڈیسک) مودی کا دورۂ اسرائیل، فلسطین کی حمایت سے کھلے اسرائیلی اتحاد تک بھارتی تعلقات کی داستان، گاندھی و نہرو فلسطین کے غیر مشروط حامی، اقوام متحدہ میں تقسیم فلسطین اور اسرائیل قیام کیخلاف ووٹ دیا۔ 1950میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود بھارت نے چار دہائیوں تک باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے، 1992میں مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے، مودی دور میں دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی تعاون میں اضافہ، غیر معمولی قربت، ماہرین کا کہنا ہےبھارت اسرائیل، فلسطین اور عرب ممالک کیساتھ بیک وقت تعلقات کی تزویراتی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 25 فروری کو اسرائیل کے دو روزہ دورے پر جا رہے ہیں، جو ان کے 2017 کے تاریخی دورے کے نو برس بعد ہو رہا ہے، اور ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت نے حال ہی میں مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع کے خلاف مشترکہ عالمی بیان میں شمولیت اختیار کی؛ برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے دوران مہاتما گاندھی نے فلسطین کو عربوں کا حق قرار دیتے ہوئے یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی جبکہ جواہر لعل نہرو کی حکومت نے 1947 میں اقوام متحدہ کی تقسیمِ فلسطین قرارداد کے خلاف ووٹ دیا اور اسرائیل کی رکنیت کی بھی مخالفت کی، اگرچہ 1950 میں بھارت نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا مگر کئی دہائیوں تک سفارتی تعلقات قائم نہ کیے، اس دوران چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں میں اسرائیل سے خفیہ عسکری مدد حاصل کی جاتی رہی، 1974 میں بھارت نے فلسطینی آزادی تنظیم کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا اور 1988 میں فلسطینی ریاست کو بھی مان لیا، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد 1992 میں دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور کارگل جنگ میں اسرائیلی مدد سے دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوا، 2014 کے بعد مودی حکومت میں دفاعی خریداری، مشترکہ مشقوں، سرمایہ کاری اور تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا، 2017 میں مودی کے دورۂ اسرائیل اور 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دورۂ بھارت نے تعلقات کو کھل کر ظاہر کیا، دو طرفہ تجارت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ دفاعی اور تکنیکی اشتراک میں مسلسل وسعت آ رہی ہے، اگرچہ بھارت سرکاری طور پر دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے مگر غزہ جنگ کے دوران جنگ بندی قراردادوں سے گریز اور محتاط طرزِ عمل نے اندرون ملک سیاسی تنقید کو جنم دیا ہے، ماہرین کے مطابق نئی دہلی ایک تزویراتی توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت وہ اسرائیل سے قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ عرب ممالک اور فلسطینی قیادت سے روابط بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔