• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف آئی اے اور ڈریپ کی مشترکہ کاروائیاں جاری

کراچی (اسد ابن حسن) وزارت داخلہ کے احکامات کے تناظر میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی تمام دیگر کام پس پشت پر ڈال کر اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ یہ کاروائیاں جعلی ادویات کی تیاری اور اسمگلڈ شدہ ادویات اور دیگر انسانی صحت اور ضروریات کے حوالے میں کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے دو مقامات پر ڈریپ کے ساتھ چھاپے مار کر بڑی مقدار میں جعلی ادویات برامد کیں۔ اسی ہفتے اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں کروڑوں روپے کے اسمگلڈ اور مقامی تیار شدہ مصنوعی دانتوں کے سیٹس برامد کیے گئے۔ اس کے بعد فیصل آباد میں ایک جعلی ادویات بنانے والی فیکٹری پر بھی چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں جعلی ادویات برامد کی گئیں۔ ان تمام چھاپوں کے مقدمات اب تک درج نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ ایف آئی اے کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ خود سے مقدمہ درج کر سکے جب تک کہ ڈریپ کی طرف سے باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوتی اور ڈرگ افسر مدعی نہیں بنتا۔ کراچی میں اتنی بڑی کاروائیاں تو ہو رہی ہیں مگر حیرت انگیز طور پر ماضی میں جو ایف آئی اے نے ڈریپ کے ساتھ مل کر ڈینسوہال کے اطراف میں قائم میڈیکل مارکیٹوں میں چھاپے مارے تھے اور بڑی مقدار میں اور کروڑوں کی مالیت کی جعلی اور اسمگلڈ ادویات برامد کی تھیں اس طرف ایف آئی اے اور نہ ہی ڈریپ توجہ دے رہی ہے۔
اہم خبریں سے مزید