کراچی( اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد آئین، عوام اور پاکستان کے دفاع میں فیصلہ کن جدوجہد ہوگی، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکے گا،سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد غیرآئینی غیر اخلاقی غیر جمہوری اور پاکستان دشمن ہے، جومحض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ وفاق پاکستان کے خلاف کھلا چیلنج ہے ۔ وہ اتوار کوسینئر مرکزی رہنماؤں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، فیصل سبزواری اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ مرکز بہادر آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کسی صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئینِ پاکستان سے متصادم قرارداد منظور کرے؟ اگر نہیں تو پھر یہ جرات کس خوف اور کس ایجنڈے کے تحت کی گئی، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے، جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہمیں بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں،پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، سندھو دیش نہیں بن سکے گا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سترہ برس سے سندھ پر قابض ٹولہ اپنی بدترین حکمرانی کرپشن اور نااہلی کا حساب دینے سے بھاگ رہا ہے اسی لئے نفرت اور تقسیم کا شوشہ چھوڑا گیا ہے، پیپلز پارٹی کی سیاست کا آغاز ہی ادھر ہم ادھر تم سے ہوا تھا اور کل اسمبلی میں اسی سوچ کا برہنہ اظہار ہوا، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایم کیو ایم کا کوئی ایک مطالبہ بھی آئین و قانون سے باہر نہیں، ہم غلام نہیں مجبورِ وفا لوگ ہیں ہماری دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے۔