اسلام آباد (خبر نگار) پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے متنازعہ فائر وال منصوبے پر اربوں روپے ضائع کرنے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےمطالبہ کیا ہے کہ فائر وال منصوبے پر ہونیوالے تمام اخراجات اور معاہدوں کی تفصیلات فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں، منصوبے کی ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ایک شفاف اور پائیدار فریم ورک تشکیل دیا جائے جو ڈیجیٹل آزادی، اظہار رائے کے تحفظ اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کو یقینی بنائے، پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کسی قومی مفاد کے بجائے صرف سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا تھا اور اب اسے ختم کر دیا گیا، پی ٹی آئی نے پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت سینئر بیوروکریٹس کیلئے گاڑیوں کی انجن کی گنجائش اور ماہانہ فیول الائونس میں نمایاں اضافہ کیا گیا جبکہ ملک کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اتوار کو جاری بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ فائر وال منصوبے کی بندش، خصوصاً فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی سے قبل، اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ یہ منصوبہ تکنیکی طور پر ناقابل عمل تھا اور اس کی تنصیب اور طویل انٹرنیٹ سست روی کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا،پی ٹی آئی کے مطابق یہ منصوبہ دراصل “عمران فوبیا” کا مظہر تھا، جس کے تحت حکومت سیاسی انتقام اور مخالف آوازوں کو دبانے کی پالیسی پر گامزن رہی۔ شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد تک کمی آئی ، بے روزگاری ریکارڈ سطح پر ہے، عوامی قرضہ تاریخی حدوں کو چھو رہا ہے اور قومی کرنسی مسلسل دباؤ میں ہے، ایسے میں اربوں روپے آزادی اظہار کو محدود کرنے پر خرچ کرنا قومی مفاد کے منافی ہے۔