• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیٹی کے ایم ڈی کیٹ میں شرکت پر مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ ٹیسٹ کسی اور سے کرانے کی تجویز دی تھی، وی سی آئی بی اے سکھر

کراچی( سید محمد عسکری) سندھ میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ میں ٹیسٹنگ ادارے کے سربراہ کی بیٹی کی شرکت سے مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، تاہم وزیر صحت بضد ہیں کہ ٹیسٹ آئی بی اے سکھر ہی لے گا۔ جنگ/ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی رواں سال ایم ڈی کیٹ امتحان میں شریک ہوگی، جس کے باعث انہوں نے کئی ماہ قبل حکومت سندھ کو تجویز دی تھی کہ اس سال ایم ڈی کیٹ کا انعقاد کسی دوسرے ادارے سے کرایا جائے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ کے تاثر سے بچا جاسکے۔ڈاکٹر آصف شیخ نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں 14 اپریل کو سیکریٹری صحت کو بھی اس حوالے سے خط بھی لکھا تھا اور بعد ازاں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو بھی اجلاس کے دوران آگاہ کیا تھا کہ چونکہ ان کی بیٹی امتحان میں شریک ہورہی ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ ٹیسٹ کسی اور جامعہ یا ادارے سے لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی ایک ذہین طالبہ ہے جو ماما پارسی گرلز اسکول اور آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سے تعلیم حاصل کرچکی ہے جبکہ آغاخانی بورڈ سے اس نے انٹرمیڈیٹ میں 93 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں سندھ کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز یا ان کے نمائندے بھی شریک تھے، تاہم وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا انعقاد آئی بی اے سکھر ہی کرے گا جب کہ آئی بی اے کے سربراہ پرچہ سازی، سوالات کی جانچ یا امتحان کے حساس مراحل میں شریک نہیں ہوں گے تاکہ شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ڈاکٹر آصف شیخ نے کہا کہ اجلاس میں انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ ایک سال کے لیے ایم ڈی کیٹ کی ذمہ داری ان سے واپس لے کر کسی اور ادارے کو دے دی جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ رواں سال ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس داخلوں کے عمل کی نگرانی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کرے گی۔

اہم خبریں سے مزید