اسلام آباد (ساجد چوہدری )ایوان بالا میں حکومتی بنچز پر بیٹھی دو پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ اسمبلی میں پاس ہونے والی قرارداد اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ہونے والی ایجوکیشن کانفرنس میں ہونے والی باتوں پر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر تنقید ، پیپلز پارٹی نے سندھ صوبے کو تقسیم کرنے کے حوالے سے ایم کیو ایم کی باتوں کی مذمت جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے پی پی پی کی سندھ اسمبلی میں پاس قرارداد کو مسترد کر دیا گیا ، پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے کہا کہ سندھ کو متنازع کردینا آئین اور جمہوریت کے منافی ہے،وقار مہدی نے کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے ،وقار مہدی نے کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے، سنیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی نہیں آئین اور قانون کے مطابق ایک انتظامی یونٹ بنانے کی بات کی ، سندھ اسمبلی میں پاس ہونے والی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں ، سندھ کو تقسیم کرنے کی بات پیپلز پارٹی والے کر رہے ہیں ،جے یو آئی کے سنیٹر کامران مرتضیٰ بولے حکومتی بنچز پر بیٹھوں کی ایک دوسرے پر فائرنگ کو ہم انجوائے کر رہے ہیں ، لگتا ہے کہ یہ میچ فکس ہے ، پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران پی پی پی کی سنیٹر شیری رحمان نے کہا سندھ ہماری طرف سے ایک اٹوٹ حیثیت رکھتا ہے، جو اس کو توڑنے کی بات کرے وہ جمہوریت کے دشمن ہے، انہوں نے کہا 21 فروری کو سندھ اسمبلی سے اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں سندھ کی وحدت کے حوالے سے بات کی گئی، ہم سندھ کی عظیم حیثیت کی بات کرتے ہیں، بیک ڈور سے آپ یہ سب نہیں کرسکتے، ایسی کوئی بات شروع کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔