اسلام آباد (ممتاز علوی) الیکشن کمیشن آف پاکستان آج اپنی نوعیت کے ایک انوکھے کیس کی سماعت کرے گا جو قانونی چارہ جوئی اور دوبارہ گنتی کے عمل سے بھرپور ہے۔ اس کیس میں بلوچستان کے حلقہ پی بی 21(حب) میں پول شدہ ووٹوں میں دس ہزار سے زائد کا حیران کن اضافہ اور مسترد شدہ ووٹوں میں 13,507کی بھاری تعداد سامنے آئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’واقعات‘‘ میں ایک نیا موڑ تب آیا جب 2024کے عام انتخابات کے بعد اس وقت کے ریٹرننگ افسر نثار احمد لانگو کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق 30,910 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہنے والے صالح بھوتانی کو اپریل 2024 میں ہونے والی دوبارہ گنتی میں تیسرے نمبر پر دھکیل دیا گیا، جبکہ علی حسن زہری جو پہلے 14,120 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھے، انہیں پہلے نمبر پر قرار دے دیا گیا۔ حال ہی میں، علی حسن زہری کو وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی کابینہ سے بطور وزیر ہٹا دیا گیا تھا اور بعد ازاں الیکشن کمیشن نے اگلے احکامات تک ان کی بطور ایم پی اے رکنیت بھی معطل کر دی ہے۔