اسلام آباد (خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے ایک سو سے زائد ملازمین کی مستقلی کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت کیوں لوگوں کو مسلسل کنٹریکٹ پر بھرتی کر رہی ہے؟ریاست کسی شہری کا استحصال نہیں کر سکتی ، یہ سیاسی طور پر نشانہ بنانے میں بھی آتا ہے، ایک آدمی کو نوکری دیتے ہیں وہ پانچ سات سال نوکری کرتا ہے پھر ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کر دیا جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 2019میں کون سی حکومت تھی جس نے بھرتیاں کیں، 2026 میں کون سی حکومت ہے، آج اور لوگ رکھے جائیں گے ،2032 میں کوئی اور حکومت ہو گی، اس بات سے بالاتر ہو کر کہ انہوں نے ووٹ کس کو دیا، یہ استحصال ہے۔ ابھی کہہ رہے ہیں رولز بننے ہیں، عدالت کی ڈائریکشن بغیر کوئی کام نہیں کرتے، اپنے منظورِ نظر افراد کو پروموٹ کر دیتے ہیں پھر متاثرہ شخص عدالت آ جاتا ہے۔ آج اِن لوگوں کو فارغ کر کے نیا اشتہار دیں تو وہ اس سے بڑا ظلم ہو گا۔ 402 پوسٹوں پر اب موجودہ حکومت اپنی مرضی کی تعیناتیاں کرے گی۔