اسلام آباد (ناصر چشتی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بر ائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو بتایا گیا کہ آلو بحران زیادہ پیداوار اور برآمد ی راستے نہ ہونے کی وجہ سے ہے ، اس سال آلو کی پیداوار تقریباً 12ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلے سالوں میں اوسطاً 8-10ملین میٹرک ٹن تھی، جس سے تقریباً 4ملین میٹرک ٹن کا سرپلس رہ گیا ہے۔ کمیٹی کی سفارش کی ہے کہ صوبائی حکومتیں فاضل آلو ذخیرہ کریں جو بعد میں مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت کیا جا سکے ،یہ نوٹ کیا گیا کہ وسطی ایشیا، جو افغانستان کے راستے قابل رسائی ہے، سب سے زیادہ قابل عمل برآمدی منڈی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی تخمینہ صلاحیت 1ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ تاہم، محدود بین الاقوامی طلب، طویل اور مہنگے نقل و حمل کے راستوں، سرحدوں کی بندش، کولڈ اسٹوریج اور گودام کی ناکافی سہولیات، اور ناکافی قیمت میں اضافے اور پروسیسنگ کی صلاحیت کی وجہ سے تقریباً 3 ملین میٹرک ٹن برآمدی راستے تلاش کرنے کا امکان نہیں ہے۔ یہ ساختی چیلنجز فاضل کا انتظام کرنے اور کسانوں کیلئے مقامی مارکیٹ کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسر چ کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین کی صدارت میں ہوا اجلاس مین خصوص ٹرانزٹ رکاوٹوں پر روشنی ڈالی گئی: تفتان بارڈر (ایران) کے ذریعے ترسیل میں لگ بھگ 23 دن لگتے ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات اور خرابی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جب کہ چین کا راستہ 15 دن چھوٹا ہے لیکن ویزا کی حدود کی وجہ سے محدود ہے، اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ فروری اور مارچ فصل کی کٹائی کا سب سے زیادہ موسم ہے۔