کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے تحقیقاتی کارروائی میں ایم کیو ایم پاکستان کی فریق بننے کی درخواست مسترد کردی انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں ڈسٹرب کررہے ہیں۔ سینئر سیاسی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18سال سے کرپٹ ترین حکومت ہے، ہمارے پاس ثبوت ہیںمگر ہمیں سنا نہیں گیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز جوڈیشل کمیشن نے جیسے ہی سماعت کا آغاز کیا تو ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کمیشن کے روبرو آئے اور کمیشن کے سربراہ جسٹس فیصل آغا کے سامنے کچھ معلومات پیش کرنے کی اجازت طلب کی تاہم کمیشن نے کہا کہ آپ کی آمد کمیشن کے لئے خوشی کا باعث ہے لیکن روسٹرم پر آ کر آپ ہمیں ڈسٹرب کر رہے ہیں ، آپ نے جو بھی معلومات دینی ہوں تو براہ کرم ہمیں ای میل کر دیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ کمیشن ان کی فریق بننے کی درخواست منظور کرے اور انہیں سماعت کا حق دیا جائے۔ کمیشن نے فریق بنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان سے معذرت کر دی۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کمیشن میں جس طرح تحقیقات ہو رہی ہیں اس پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں، ہم کورٹ کی معاونت کے لئے آئے ہیں۔ دستاویزات جمع کرائی ہیں جو کہ واضح طور پر نشاندہی کر دیں گی کہ گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کے خلاف مقدمہ بھی بنا تھا، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف درج مقدمے کا کیا ہوا؟ فاروق ستار نے مزید کہا کہ ہم معاونت کے لئے آئے تھے، 19 فروری کو ای میل کر کے تفصیلات جمع کرا دی ہیں۔