پشاور (خصوصی نامہ نگار) خیبر میڈیکل یونیورسٹی ( کے ایم یو) پشاور نے ڈاکٹر مہوش حسنین کے المناک اور سفاکانہ قتل پر گہرے دکھ، صدمے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر مہوش کو گزشتہ روز ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے ڈی اے کوہاٹ میں ایمرجنسی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد گھر واپسی کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف کوہاٹ بلکہ پورے صوبے کی طبی برادری کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس اندوہناک سانحے کے تناظر میں کے ایم یو میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کے ایم یو خاندان اس دل دہلا دینے والے واقعے پر شدید صدمے اور رنج میں مبتلا ہے۔ ایک فرض شناس اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ڈاکٹر کو اس طرح نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ہم بطور کے ایم یو خاندان اس بزدلانہ اور سفاکانہ اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو نشانہ بنانا دراصل پورے نظامِ صحت پر حملہ ہے۔ ایسے واقعات طبی عملے میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں جو پہلے ہی مشکل حالات میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اجلاس میں حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور آئندہ ایسے سانحات کا سدباب کیا جا سکے۔ مزید برآں اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انہیں آسان ہدف بنایا جا رہا ہے۔ کے ایم یو انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں اور طبی اداروں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے تحفظ کے لئے فوری اور مؤثر سکیورٹی اقدامات کئے جائیں۔ کے ایم یو نے مرحومہ ڈاکٹر مہوش کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔