پشاور(کرائم رپورٹر) پشاور میں ر ہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا اور متعدد شہریوں کو گن پوائنٹ پر لوٹنے کے بعد ان پر تشدد بھی کیا گیاجبکہ کپڑے کے افغان تاجر کو اغوا کرنے والے گینگ کو بے نقاب کرلیا گیا۔ موٹرسائیکل اورگاڑی کے درمیان ٹکر سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔تھانہ فقیرآباد پولیس کو حسن ولد جاوید ساکنہ شاہ عالم پل نے بتایاکہ افغان کالونی میں دوست کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جارہے تھے اس دوران جائے وقوعہ پر دوموٹرسائیکل سوار افراد نے آکر انہیں روکا اور موٹرسائیکل اور بٹوہ جس میں 30ہزار روپے جبکہ دوست فاروق سے موبائل چھینا۔ انہوں نے مزاحمت کی تو انہیں پستول کے بٹوں سے ماراگیا جبکہ آگے جاکر راہزنوں نے مزید دوافراد سے بھی موبائل فونز لے لئے۔ انہوں نے بتایاکہ بعد میں نامعلوم راہزن موبائل اور نقدی آپس میں تقسیم کررہے تھے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رہزنی وارداتوں کے دوران متعدد شہریوں کو زخمی کیا گیاہے۔ تھانہ پھندو پولیس کو ساجد علی ولد محمد رئوف نے بتایاکہ وہ پھوپھی کے ہمراہ رکشے میں جارہے تھے اس دوران ہزار خوانی روڈ پرنامعلوم افراد نے آکر رکشہ روکا اور ہم سے 7ہزارروپے اور موبائل فون اور پستول جبکہ ڈرائیور سے موبائل اور ڈھائی ہزار روپے بھی چھین لی ادھر تھانہ ریگی ماڈل ٹائون پولیس کے اے ایس آئی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ ر ہزنی وارداتوں میں مطلوب ملزمان یوسف اور خانزیب سکنہ چینوکلے کی گرفتاری کیلئے جناح روڈ پہنچے تو ملزمان ان پر فائرنگ کردی جس پر جوابی فائرنگ کی گئی۔ اس دوران سرچ آپریشن کے د وران ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ تھانہ غربی کے علاقے میں سی بی پلازہ میں فلیٹ سے نعمان اقبال کے فلیٹ سے گھر کا قیمتی سامان چوری کرلیا گیا۔ اسی طرح تھانہ بڈھ بیر پولیس کے مطابق انہیں اطلاع ملی کہ سلیمان خیل بی ایچ یو میں بعض افراد واردات کی غرض سے موجود ہیں اس دوران انہوں نے چھاپہ مارا تو وہاں سے مشکوک افرادذیشان عرف ایم بی اور عبدالواحد سکنہ کوہاٹ رود کو گرفتار کرکے پستول برآمد کرلیا گیا جبکہ ان کے دیگر دوست فرار ہوگئے۔ادھر تھانہ شہید گلفت حسین پولیس نے کارروائی کے دوران مغوی نیاز ولی ولد یار محمد کو بھی بحفاظت بازیاب کرایا گیااغوا کار گینگ سے حساس اداروں کے جعلی سروسز کارڈز، سکیورٹی فورسز کی وردی، اسلحہ اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی۔گرفتار ملزمان میں افتخار ولد مقرب خان سکنہ ورسک روڈ، محمد عمر ولد خان سید سکنہ لنڈی کوتل ضلع خیبر اور فرمان اللہ ولد گل نبی سکنہ ضلع چارسدہ شامل ہیں۔ ملزمان اپنے آپ کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار ظاہر کرکے افغان شہریوں کو اغواءکرکے تاوان وصول کرتے تھے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف اغواءبرائے تاوان، جعلسازی، دہشت گردی، راہزنی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔