کراچی (بابر علی اعوان) سندھ میں ایک ماہ میں ریبیز سے چوتھی ہلاکت رپورٹ ، 10 سالہ بچی جاں بحق ہوگئی ،ریبیز کنٹرول پروگرام پر سوالات اٹھ گئے، شہریوں کی جانب سے آوارہ کتوں پر کنٹرول اور جلد آگاہی پروگرام کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔سندھ میں ایک ماہ کے دوران ریبیز سے چوتھی ہلاکت رپورٹ ہوگئی۔ منگل کو کتے کے کاٹے سے ایک اور قیمتی جان ضائع ہو گئی۔ میرپورخاص کے علاقے ڈگری سے تعلق رکھنے والی 10 سالہ بچی انڈس اسپتال کراچی میں دم توڑ گئی، جس کے بعد 27 جنوری سے 24 فروری تک صوبے میں ریبیز سے ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ انڈس اسپتال کے ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر کے مینیجر ڈاکٹر آفتاب گوہر کے مطابق بچی کو تقریباً دو ماہ قبل ایک پالتو کتے نے چہرے پر کاٹا تھا، تاہم واقعے کے بعد نہ تو زخم کی مناسب صفائی کرائی گئی اور نہ ہی اینٹی ریبیز ویکسین لگوائی گئی۔ چار روز قبل اسے بخار اور ذہنی کیفیت میں تبدیلی کی علامات ظاہر ہوئیں جو تیزی سے شدت اختیار کر گئیں۔ اسپتال پہنچنے تک وہ ہائیڈروفوبیا (پانی سے خوف) اور ایئروفوبیا (ہوا سے خوف) جیسی ریبیز کی مہلک علامات میں مبتلا ہو چکی تھی۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ضلع سانگھڑ کی 8 سالہ بچی، گلشنِ معمار کے 42 سالہ رہائشی اور لیاری کے 75 سالہ بزرگ بھی ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔