صدر آصف زرداری کے معتمد خاص اور ترجمان فرحت اللہ بابرنے حال ہی میں شائع ہونے والی تصنیف میں جو تفصیلات بیان کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔فرحت اللہ بابر کے مطابق میموگیٹ کے دوران صدرزرداری بظاہرپراعتماد مگر اصل میں شدید دبائو کا شکار تھے ۔ اس دبائو کے اثرات پہلی بار29نومبر 2011ء کو تب سامنے آئے جب سری لنکن وفد کی ایوان صدر میں آصف زرداری سے ملاقات تھی۔فرسٹریشن کایہ عالم تھا کہ صدر زرداری بلاتوقف بولتے چلے گئے اور سری لنکن وفد کے ارکان کو ایک لفظ تک کہنے کا موقع نہ ملا۔بے ربط گفتگو کے دوران صدر زرداری پاک سری لنکا تعلقات پر بات کرنے کے بجائے کہنے لگے،آصف زرداری کاٹرائل نہیں ہوگا،امریکہ کا ٹرائل ہوگا،میں افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہوں ،میں گوانتا ناموبے جانے کو تیار ہوں ۔اس بے ربط گفتگو کے پیش نظر ملاقات ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔اس کےبعد اندازہ ہوا کہ صدر مملکت کی ذہنی حالت درست نہیں ،انہیں آرام درکار ہے ۔کچھ دن بعد صدر زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ایوان صدر میں اپنے مشیروں کااجلاس طلب کیا۔اس بار پھر صدر آصف زرداری دو گھنٹے تک بولتے چلے گئے ۔انہوںنے کہا ،میں فوج کا سپریم کمانڈر ہوں ،میں اپنے دشمنوں کا تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اگر کسی کا خیال ہے کہ میں ہتھیار ڈال دوں گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے ،میں بھاگوں گا نہیں۔جنرل کیانی میرے ماتحت ہے میں اسکے انڈر کام نہیں کرتا۔میں سب سازشیوں کو شکست دوں گا ،وہ میرے ساتھ کھیل رہے ہیں ،میںان کے ساتھ کھلواڑ کروں گا۔ ان کا پورا جسم لرزنے لگا،چہرہ مرجھا گیا،گردن دائیں طرف صوفے پر ڈھلک گئی ۔پانی کی بوتل لائی گئی مگر پانی پلانے میںمشکل ہورہی تھی۔صدرآصف زرداری کوپہلے صوفے پر اور پھر قالین پر لٹادیا گیا۔طبی امداد کیلئے ڈاکٹر کو طلب کیا گیا اور صدر کو انکی خواب گاہ بھیج دیا گیا۔
صدر آصف زرداری کے ذاتی معالج ،وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم جو کچھ دیر پہلے باکو ،روانہ ہوئے تھے ،انہیں واپس بلالیا گیا ،بلاول بھٹو زرداری کو بھی خبر دی گئی۔ اگلے روز صدر ،وزیراعظم اور آرمی چیف کی طے شدہ ملاقات منسوخ کردی گئی۔طے پایا جس طرح ساٹھ کی دہائی میں جنرل ایوب خان کی علالت پر انکے پرنسپل سیکریٹری سید فدا حسین نے کام جاری رکھا ،اسی طرح صدر آصف زرداری کے سیکریٹری جنرل سلمان فاروقی SOP'S کے تحت معمول کے ریاستی امور سرانجام دیتے رہیں گے۔صدر زرداری کو کچھ مزید ٹیسٹ کروانےکیلئے راولپنڈی میں عسکری ادارہ امراض قلب یا کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل لے جانے کی تجویز دی گئی مگر زرداری، جو اب ہوش میں آچکے تھے ،نے وہاں جانے سے انکارکردیا۔رات گئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ٹیلیفون کیا تو صدر آصف زرداری مسلسل دو گھنٹے بیس منٹ تک ان سے بات کرتے رہے۔اس دوران صدر زرداری کے بلانے پر ملک ریاض بھی آگئے۔صدر مملکت کو نیند کی دوائی دیکر سلا دیا گیا۔اگلے روز 6دسمبرکی صبح بلاول بھٹو زرداری اپنی پھپھو عذرا افضل پیچوہو کے ساتھ ایوان صدر پہنچ گئے ۔صدر زرداری کو علاج کی غرض سے دبئی لے جانے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
صدر زرداری کو اسلام آباد ایئر پورٹ لے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر ایوان صدر کے لان میں لینڈ کرگیا۔مگر اب ایک اور مسئلہ آن کھڑا ہوا۔ آصف زرداری حسین حقانی کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے اور وہاں موجود ان کے بااعتماد ساتھیوں کا خیال تھا کہ ایسی صورت میںانہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔حسین حقانی نو فلائی لسٹ پر تھے ۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ،اگر آپ حسین حقانی کو ساتھ لے گئے تو حکومت ایک دن بھی برقرار نہیں رہے گی،اگلے دن اخبارات کی ہیڈلائن ہوگی ،آصف زرداری اور حسین حقانی ملک سے فرار۔بلاول بھٹو نے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا ،بابا !چلیں آپ کی صحت سب سے اہم ہے ۔چنانچہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔صدر آصف زرداری لوڈڈ گن کے ساتھ حسین حقانی کو ساتھ لیکر ہیلی پیڈ کی طرف جانے لگے۔
ایوان صدر میں دو ہیلی کاپٹر تیار کھڑے تھے ۔صدر آصف زرداری حسین حقانی کے ساتھ ہیلی کاپٹر نمبر ایک میں سوار ہوگئے ،30منٹ تک ہیلی کاپٹر کا انجن دھاڑتا رہا مگر اڑان نہ بھری حقیقت یہ تھی کہ ملک ریاض کو انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک بڑے افسر نے کال کرکے بتایا کہ کوئی ہیلی کاپٹر یا طیارہ جس پر صدر آصف زرداری کے ساتھ حسین حقانی سوار ہوں گے ،اسے پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔آخر کار صدر زرداری کو بتایا گیا کہ دبئی حکام سے اجازت نہیں مل رہی تو آپ کو اسلام آباد سے کراچی لے چلتے ہیں مگر انہوںنے انکار کردیا اور کہا کہ وہ یہاں ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر 30گھنٹے انتظار کرلیں گے مگر کراچی نہیں جائیں گے اور نہ ہی حسین حقانی کے بغیر سفر کریں گے۔صورتحال اس قدر گھمبیر تھی کہ صدر آصف زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم نے ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ڈاکٹر عاصم کا خیال تھا کہ صدر آصف زرداری کے پاس لوڈڈ گن ہے ،وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں ،اگر انہیں پتہ چلاکہ دبئی کے بجائے کراچی لے جایا جارہا ہے تو ممکن ہے وہ ہیلی کاپٹر میں ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کردیں ۔ہیلی کاپٹر کا انجن بند کردیا گیا ،شام ساڑھے پانچ بجےآصف زرداری کو واپس انکی خواب گاہ منتقل کردیا گیا۔
آج کل صدر آصف زرداری ایک بار پھر برہم دکھائی دیتے ہیں،کیا ان پر کسی قسم کا دبائو ہے ؟کچھ ان کی منشایا مرضی کے خلاف ہورہا ہے؟