اسلام آباد (ساجد چوہدری )ملک بھر میں محفوظ پینے کے پانی کے ذرائع کا تناسب صرف 32 فیصد ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، 59فیصد ذرائع مائیکرو بائیولوجیکل آلودہ ، سانگڑ ، دادو اور مٹھی 100 ،میرپور خاص 95 ، کراچی کے 91فیصد سمپلز غیرمحفوظ پائے گئے ، آلودہ پانی کے لحاظ سے سندھ 89فیصدکے ساتھ پہلے ، آزاد کشمیر 85فیصد دوسرے ، گلگت بلتستان 69فیصد تیسرے نمبر پر ہے ، سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر )نے قومی پروگرام برائے پانی کے معیار کی نگرانی (2025-26)کے تحت ملک کے 70بڑے شہروں میں پینے کے پانی کے معیار کا جائزہ تو 2205آبی ذرائع کے تجزیئے کی بنیاد پر یہ انکشاف ہوا کہ جانچ کئے گئے پینے کے پانی کے مجموعی طور پر 68فیصد سمپلز انسانی استعمال کیلئے غیرمحفوظ پائے گئے ہیں ۔ سانگڑ ، دادو اور مٹھی کے 100فیصد ،میرپور خاص 95فیصد ، خوشاب کے 92فیصد، کراچی 91فیصد ،ملیر 88فیصد ، لاڑکانہ 82فیصد ، وفاقی دارالحکومت کے 61فیصد سمپلز انسانی استعمال کیلئے غیر محفوظ پائے گئے ۔