کراچی (رفیق مانگٹ، افضل ندیم ڈوگر) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فوجی حملوں کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہو گئے، متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر موڑ دی گئیں۔ 11 ہزار سے زائد پروازوں میں تاخیر، ایک ہزار سے زیادہ منسوخ؛ عالمی ایوی ایشن بحران شدت اختیار کر گیا،ایران، اسرائیل، عراق، کویت، شام اور یو اے ای کی فضائی بندش سے خطے میں سفری نظام درہم برہم ہوگیا، قطر اور امارات نے بھی پروازیں معطل کر دیں، بین الاقوامی طیارے سعودی عرب کے طویل راستے اختیار کرنےپر مجبورہیں۔ خطے کے بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کا رش بڑھ گیا اور عالمی ایئرلائنز نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہنگامی فیصلے کیے۔ ایران، اسرائیل، عراق، کویت، شام اور متحدہ عرب امارات نے جزوی یا مکمل طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ملک کی فضائی حدود اگلے حکم تک بند ہیں۔ قطر اور امارات نے بھی عارضی طور پر اپنی فضائی سرگرمیاں معطل کیں۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق بین الاقوامی پروازیں اب ایران اور عراق کے اوپر سے گزرنے کے بجائے سعودی عرب کی فضائی حدود سے طویل راستہ اختیار کر رہی ہیں، جس سے تاخیر میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر 11 ہزار سے زائد پروازوں میں تاخیر اور ایک ہزار سے زیادہ منسوخیوں کی اطلاعات ہیں۔ برطانیہ کی قومی ایئرلائن برٹش ائیرویز نے تل ابیب، بحرین اور عمان سمیت کئی روٹس معطل کر دیے جبکہ لندن ہیتھرو سے دبئی اور دوحہ جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں۔ ورجن اٹلانٹک نے ہیتھرو سے دبئی کی پرواز منسوخ کرتے ہوئے عراق کی فضائی حدود سے گریز کا اعلان کیا۔ قطر اور ایمرٹس ائیرویز نے بھی دبئی اور دوحہ کے لیے آپریشن عارضی طور پر روک دیے۔