کراچی (سید محمد عسکری ) فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے بعد سابق رجسٹرار محمد صدیق کو بھی مبینہ جعل سازی، حقائق چھپانے اور غلط بیانی پر ذاتی حیثیت میں بدھ کو طلب کرلیا ہے۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق یہ طلبی وائس چانسلر کی تقرری سے متعلق مبینہ جعل سازی، حقائق چھپانے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے غلط بیانی کے الزامات پر جاری انکوائری کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایف آئی اے کے نوٹس کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے انکوائری نمبر ENQ-ACC-KHI-72/25 درج کر رکھی ہے، جو 20 اگست 2025 کو رجسٹر کی گئی۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ انکوائری وفاقی اردو یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فارمیسی کی ڈین ڈاکٹر ماہ جبین کی جانب سے موصول ہونے والی تحریری شکایات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ نوٹس کے متن کے مطابق الزام ہے کہ محمد صدیق نے بطور رجسٹرار اپنے عہدے کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وائس چانسلر کی تقرری کے عمل میں غیرقانونی، غیرآئینی اور بدنیتی پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کی گئی، اہم حقائق چھپائے گئے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے 49ویں اور 50ویں اجلاسوں کے دوران غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ ایف آئی اے نے سابق رجسٹرار کو ہدایت کی ہے کہ وہ تقرری سے متعلق تمام اصل ریکارڈ اور ان کی مصدقہ نقول ساتھ لائیں، جن میں خط و کتابت، سمریز، منظوریوں، نوٹیفکیشنز، اجلاسوں کے منٹس، فائل موومنٹ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تمام ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن پر وہ اپنے دفاع میں انحصار کرنا چاہتے ہوں۔ نوٹس کے مطابق محمد صدیق کو 4 مارچ 2026 کو دوپہر 2 بج کر 15 منٹ پر اینٹی کرپشن سرکل کراچی، بیرک نمبر 46-اے، پاکستان سیکریٹریٹ، شاہراہِ عراق، صدر کراچی میں ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم حاضری کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ متعلقہ فریق کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں۔