کراچی(سید محمد عسکری)پی ایم ڈی سی، اخلاقیات اور مریضوں کے تحفظ کیلئے تاریخی اصلاحات کا نفاذ، نظرِ ثانی شدہ دستاویز طبی شعبے میں اخلاقی نظم و نسق کے استحکام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل قرار، صدر پی ایم ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ اخلاقی اصولوں کی پابندی محفوظ اور معیاری صحت کی فراہمی کی بنیاد اور طبی پیشے پر عوامی اعتماد کا ستون ہے۔ تفصیلات کے مطابق مریضوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ احتساب کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹیشنرز (RMDPs) اور تسلیم شدہ اداروں کے لئے جامع نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق (کوڈ اف ایتھکس) کی باقاعدہ منظوری اور نفاذ کر دیا ہے۔ دو سالہ تفصیلی جائزے کے بعد کونسل کی توثیق سے منظور ہونے والی یہ نظرِ ثانی شدہ دستاویز طبی شعبے میں اخلاقی نظم و نسق کے استحکام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ صدر پی ایم ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت میں ضابطۂ اخلاق کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا تاکہ عصری طبی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا سکے، ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جا سکے اور قومی معیارات کو بدلتے ہوئے قانونی و پیشہ ورانہ فریم ورک سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اخلاقی اصولوں کی پابندی محفوظ اور معیاری صحت کی فراہمی کی بنیاد اور طبی پیشے پر عوامی اعتماد کا ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق میں مریضوں کی حفاظت، وقار، رازداری اور باخبر رضامندی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ کلینیکل پریکٹس، تحقیق، تدریس اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل میں احتساب کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت تادیبی نگرانی کو مؤثر بنایا گیا ہے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوی علاج کی ضمانت دی گئی ہے، اور مفادات کے ٹکراؤ کے مؤثر انتظام کے لئے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ کونسل کی اولین ترجیح مریضوں کا تحفظ ہے، جو صرف باصلاحیت، اخلاقی اور شفاف طبی عمل سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ضابطہ ابھرتے ہوئے اخلاقی چیلنجز کا براہِ راست احاطہ کرتا ہے اور ایسے قابلِ نفاذ معیارات متعارف کراتا ہے جو پاکستان میں صحت کی فراہمی کو اعلیٰ ترین معیار تک لے جائیں گے۔