اسلام آباد( مہتاب حیدر) پاکستان اور آئی ایم ایف نے منگل کے روز ورچوئل طور پر تکنیکی مذاکرات کا آغاز کر دیا، جس میں رواں مالی سال کے بقیہ عرصے کے لیے بیرونی مالی معاونت اور ایف بی آر کی محصولات میں کمی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ایف بی آر کی ٹیم نے تکنیکی سطح پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ رواں مالی سال میں تقریباً 13 ہزار 500 ارب روپے کا ہدف حاصل کر لے گی، جو کہ نظرِثانی شدہ 13 ہزار 979 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر 1 ہزار 300 ارب روپے سے زائد ماہانہ وصولی کیسے ممکن بنائے گا۔ اس پر ایف بی آر نے بھرپور کوشش کی کہ جون 2026 تک محصولات کو 13 ہزار 500 ارب روپے کے قریب لے جانے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کیا جا سکے۔قبل ازیں آئی ایم ایف نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 14 ہزار 130 ارب روپے کے اصل ہدف کو کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا تھا۔ اب ایف بی آر نے آئی ایم ایف کے سامنے مؤقف پیش کیا ہے کہ وصولیاں 13 ہزار 500 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی، تاہم موجودہ مالی سال میں مزید کمی پر آئی ایم ایف کو آمادہ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔