• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کی نجی عمارتوں میں برقی تنصیبات کا سالانہ معائنہ 23 سال سے معطل رکھنے کا انکشاف

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل کے روبرو الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد ترک نے اپنے بیان میں حیرت انگیز انکشاف کیا ہے وزارت آبپاشی و توانائی سندھ نے گذشتہ 23 سالوں سے نجی عمارتوں میں برقی تنصیبات کا سالانہ معائنہ روک رکھا ہے ، الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد نے 2003میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کمیشن کے سامنے پیش کردیا۔کمیشن میں بعض افراد سے سانحہ گل پلازہ کے حوالےسے جرح بھی کی گئی، بعد ازاں کمیشن سربراہ نےاجلاس ملتوی کردیا۔تفصیلات کےمطابقسانحہ گل پلازہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل کے روبرو الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد ترک نے اپنے بیان میں حیرت انگیز انکشاف کیا ہےکہ وزارت آبپاشی و توانائی سندھ نے گذشتہ 23 برسوں سے نجی عمارتوں میں برقی تنصیبات کا سالانہ معائنہ روک رکھا ہے ، پرویز احمد نے 2003میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کمیشن کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایاکہ وہ صرف سرکاری عمارتوں میں ہی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ جس پرکمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جب آپ کو تو پہلے ہی اوپر سے کام بند کرنے کی ہدایات ہیں تو پھر آپ کو کیوں بلائیں۔ دریں اثناء چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے مقامی صحافی محمد بابر سے جرح بھی مکمل کر لی۔ مزید برآں شہریوں کو ریسکیو کرنے والے رضاکار محمد دانش پیش ہوئے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 سید واجد صبغت اللہ نے ان سےمختلف سوالات پوچھے، جس کے جواب میں دانش نے بتایا کہ وہ10بجکر 20منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ایم سی کا پہلا فائر ٹینڈر اسکے پہنچنے کے بعد جائے وقوعہ پرپہنچا۔
اہم خبریں سے مزید