• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں مبینہ طور پر میرٹ کی پامالی، اختیارات کا ناجائز استعمال

پشاور (ارشد عزیز ملک ) یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی مداخلت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ اور جامعہ کی مختلف تنظیموں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر مداخلت اور اعلیٰ سطحی انکوائری کی درخواست کردی ہےاس سے قبل یونیورسٹی آف ہری پور میں بھی بھرتیوں اور ترقیوں میں سنگین بے قاعدگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے جس پر صوبائی حکومت نے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی دستاویزات کے مطابق شعبہ نباتیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر علی حضرت، جنہوں نے میرٹ لسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا جبکہ شعبہ بایوٹیکنالوجی کے ڈاکٹر فضل ہادی کو پروفیسر کے عہدے کے لیے تجویز کیا گیا۔ اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فضل ہادی کی تخصص بایوٹیکنالوجی میں ہے جو شعبہ نباتیات سے متعلق نہیں۔شعبہ بایو کیمسٹری میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سمیرا ناز کو اعلیٰ ترین میرٹ پوزیشن حاصل کرنے اور سینیارٹی کے باوجود نظر انداز کیے جانے کا الزام ہے جبکہ لیکچرر ڈاکٹر نوشین کو دو درجاتی ترقی دے کر ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا گیا۔ چیئرمین شعبہ بایو کیمسٹری ڈاکٹر عالم زیب نے مبینہ امتیازی سلوک پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا، کارروائی پر دستخط سے انکار کیا اور تحریری اعتراض ریکارڈ کروایا۔

اہم خبریں سے مزید