کراچی (اسٹاف رپورٹر)APNSٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے حمید ہارون نے کہا کہ صحافت میں ایڈیٹر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، وہی اخبار کی سمت طے کرتا ہے،اخبارات ہمیشہ مالی وسیاسی دباؤ میںرہے ہیں جو مزید بڑھ گیا ہے۔اشتہارات میں کمی اخبارات کی بقا کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، تفصیلات کے مطابق آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے زیر اہتمام “اے پی این ایس ٹاکس، ایک شام حمید ہارون کے نام” کا انعقاد کیا گیا جس کی نظامت کے فرائض مظہر عباس نے ادا کئے۔ اس نشست میں سابق صدر اے پی این ایس حمید ہارون نے خصوصی گفتگو کی جبکہ اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی نے بھی خطاب کیا،سینیٹر سرمد علی نے کہا ہے کہ آج کا میڈیا مختلف مسائل سے گزر رہا ہے،اج کی نشست کی میزبانی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ صحافی مظہر عباس نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ سینیٹر سرمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے پی این ایس ٹاکس سیریز کی یہ دوسری نشست ہے۔ اس کا مقصد میڈیا اور اشتہاری صنعت سے وابستہ رہنماؤں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ پبلشرز، صحافیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اس نشست کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر ایک ایسی شخصیت کے لئے جنہوں نے پاکستان کے میڈیا کے منظرنامے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا حمید ہارون کے ساتھ تعلق 1982 سے ہے اور انہیں اے پی این ایس میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ سینیٹر6 سرمد علی نے مزید کہا کہ آج کی نشست صرف اخبارات تک محدود نہیں بلکہ یہ میڈیا کے ارتقا، صحافت کی ذمہ داریوں اور مستقبل کے چیلنجز پر ایک بامعنی گفتگو ہے۔ آج کا میڈیا بدلتے کاروباری ماڈلز، مالی دباؤ اور رویوں میں تبدیلی جیسے مسائل سے گزر رہا ہے، جن پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔