کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور بمباری کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا ، ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرونز سے حملے کئے گئے ، ایران کی جانب سے اسرائیل پر پے در پے میزائل اور ڈرونز حملے بھی جاری رہے ، ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں شہید افراد کی تعداد ایک ہزار 45ہوگئی ہے ،لبنان پر اسرائیلی بمباری میں شہید افراد کی تعداد 72ہوگئی ہے،تہران سے ایک لاکھ لوگوں کا انخلا ہوا ہے جبکہ لبنان میں 80ہزار افراد محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں،پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں پر ان کے حملوں میں 160امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکےہیں ،ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ’عداوت کی وجہ سے مذاکرات کی میز پر بمباری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’جب پیچیدہ جوہری مذاکرات کو ریئل اسٹیٹ ٹرانزیکشن سمجھا جائے اور جب جھوٹ کے بادل چھائے ہوں تو غیر حقیقی توقعات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔‘عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اس کا ’نتیجہ۔؟عداوت کی وجہ سے مذاکرات کی میز پر بمباری۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ نے سفارت کاری اور ان امریکیوں کو دھوکہ دیا جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا۔‘حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ حزب اللہ "اسرائیلی امریکی جارحیت" کا مقابلہ کرے گی اور ہتھیار نہیں ڈالے گی۔اپنے گروپ کے ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے خطاب میں نعیم قاسم نے کہا"ہم جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں،ہمارا انتخاب آخری قربانی تک اس کا مقابلہ کرنا ہے، اور ہم ہار نہیں مانیں گے۔"ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد حزب اللہ کے سربراہ کا یہ پہلا خطاب تھا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر حملے اس کی جانب سےکئی ماہ سے سیز فائر کی جاری خلا ف ورزیوں کا جواب بھی ہیں۔اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس نے ایران پر پانچ ہزار سے زائد بم گرائے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ تہران کے آس پاس کا ایریا تھا۔ اسرائیلی فوج کیا کہنا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے میزائل چھوڑے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لئے فعال ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ ایران نے خود اس پرتشدد راستے کا انتخاب کیا ہے اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی رہنماؤں کو امریکا کے خلاف اپنے ’جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘انہوںنے کہا کہ ماضی کے امریکی صدور ایران کے خلاف بہت کمزور تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’مین آف ایکشن‘ ہیں۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا مقصد تہران کے ’جوہری عزائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا‘ ہے۔لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ایران نے ’تشدد اور تباہی کا یہ راستہ چنا اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران میں 2ہزار سے زائد اہداف پر حملے کئے ہیں۔عراق کی وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے ’تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔‘بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، وزارت بجلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلیک آؤٹ کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب، بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی محفوظ طریقے سے عراق سے نکل سکیں، نکل جائیں۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق ملک کی ایک بڑی آئل ریفائنری کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔