• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازہ میں بچاؤ بچاؤ کی صدائیں، لوگ ڈیڑھ دن تک زندہ پھنسے رہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو فلاحی تنظیم کے امدادی رضا کار نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ دن تک عمارت کے اندر پھنسے لوگ امداد طلب کرتے ہوئے بچاؤ بچاؤ کی صدائیں لگاتے رہے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، ہمیں کھڑکیاں بھی توڑنے سے روکا گیا، ایک فائر بریگیڈ پہنچی تھی جس کا پانی ختم ہو گیا تھا دوسری فائر بریگیڈ ایک گھنٹے بعد آئی تب تک آگ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی،26 میں سے صرف 2 گیٹ کھلے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو گل پلازہ انکوائری کمیشن نے 16 چھیپا اور 5 ایدھی ایمبولنس ڈرائیور کے بیانات قلمبند کیئے۔ چھیپا ڈرائیور ایاز کے دل دہلا دینے والا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ڈرائیور ایاز نے کہا کہ ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے اور وہ چیخ پکار کر رہے تھے، بچاؤ بچاؤ کی صدائیں لگا رہے تھے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔ ایاز نے کہا کہ وہ حال ہی میں چھیپا میں رضا کار بھرتی ہوا ہے۔ سانحہ پر سب سے پہلے ہماری گاڑی پہنچی تھی۔ مرکز سے ہمیں 10 بج کر 5 منٹ پر کال آئی تھی کہ آگ لگی ہے۔ 15 منٹ میں گل پلازہ پہنچ گیا تھا۔ ریمپ سے گاڑی اوپر لے گیا تیسری منزل پر وہاں سے لوگوں کو اتارا تھا۔ 2 گاڑیاں پہلے سے اوپر تھیں تیسری گاڑی میری تھی۔ اس وقت تک آگ چاروں طرف سے پھیل چکی تھی۔ فائر بریگیڈ ایک ہی پہنچی تھی اس کا بھی پانی ختم ہوگیا تھا۔ دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی تھی۔ دھواں بہت تھا لوگ تیزی سے باہر نکل رہے تھے۔ ریسکیو والے ہمیں دھکے دے رہے تھے کہ ہٹ جاؤ تم بھی جل جاؤ گے۔ آنکھوں میں دھواں بھر جاتا تھا کسی ریسکیو والوں نے کوئی ماسک نہیں دیا۔ رمپا پلازہ سے لوگوں کا آنا جانا ہورہا تھا۔ ایک گھنٹے بعد آگ کی شدت میں اضافہ ہوا تھا۔ کھڑکیاں اب بھی لگی ہوئی ہیں، ہمیں کھڑکیاں نہیں توڑنے دے رہے تھے۔ ریسکیو والوں نے کہا یہ ہمارا کام ہے۔ فائر بریگیڈ کی موقع پر ایک گاڑی تھی جس میں 8 سے 10 افراد تھے۔ دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی جب تک آگ پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔

اہم خبریں سے مزید