راولپنڈی (ارشد عزیز ملک) اعلیٰ سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ بگرام میں ٹارگٹ حاصل کرلیا، طالبان رجیم کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا ، پاکستان افغانستان کو فتح کرنا نہیں چاہتا بلکہ صرف اپنا تحفظ یقینی بنانا چاہتا ہے، تاہم جب تک سکیورٹی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے افغانستان میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔ افغانستان میں کس کی حکومت ہونی چاہیے اس کا فیصلہ افغان عوام خود کریں گے تاہم افغان رجیم جو کچھ کر رہی ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ایران سے پاکستان کا تقابل درست نہیں،،مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی حکام نے کہا کہ افغانستان میں مفتی نور ولی، حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج اور فتنۂ ہندوستان سے وابستہ عناصر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے خود ہی دہشت گردوں اور اپنے درمیان فرق ختم کر دیا ہے اور اب وہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرست بن چکے ہیں، اس سلسلے کو بند کرنا ہوگا پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی جا رہی ہے اور افغان رجیم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور اسے خطرات کی نوعیت کا مکمل ادراک ہے۔صوبائی حکومت تعاون کررہی ہے ۔ پہلے ہی کہا تھا کہ تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہو رہا عوام جب واپس جانا چاہیں جا سکتے ہیں پاکستان افغانستان یا افغان عوام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا بلکہ صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جاتے ہیں۔