اسلام آ باد ( رانا غلام قادر)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55روپے55پیسے فی لٹر کے ہوشر با اضافہ پر شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔شہریوں کا موقف ہے کہ پہلے تو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے خطے کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ کرلیا ہے اور ایک دن بعد ہی قیمتوں میں اضافہ کردیاگیا۔سوال یہ ہے کہ جب ذخیرہ پرانے ریٹ پر خرید کرلیا گیا تھا تو وہ پڑے پڑے کیسے مہنگا ہوگیا۔ نئے ریٹ پرخریدے گئے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمت وصول کرنے کا جواز تو موجود ہے مگر پرانے ذخیرہ کو مہنگا فروخت کرنا تو صریحاً نا جائز منافع خوری ہے۔ شہریوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی شرح پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ عوام پہلے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔ شہریوں کا موقف ہے کہ اگر بوجھ منتقل کرنا ہی ہے تو صرف عام شہریوں پر ہی کیوں ؟؟؟۔ حکومت کے وزرا اور افسر شاہی کیوں اس سے مستثنی ہے؟؟وہ بھی عام شہریوں کی طرح مساوی طور پرکیوں نہ یہ بوجھ اٹھائیں ؟؟۔ شہریوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وزرا اور سر کاری افسروں کی مفت پیٹرول کی سہولت ختم کی جا ئے ۔ انہیں بھی پابند کیا جا ئے کہ وہ عام شہریوں کی طرح جیب سے پیٹرول یا ڈیزل خریدیں۔ وزرا کی پروٹوکول گاڑیاں بند کی جائیں تاکہ کفایت شعاری کی جاسکے۔