اسلام آباد (صالح ظافر) تہران غیر ملکی سفراء سے خالی، پاکستانی سفیر کا جان ہتھیلی پر رکھ کر قیام، ایرانی عوام کا اظہار تشکر۔ تفصیلات کے مطابق ایران کا دارالحکومت تہران اس وقت کسی بھی غیر ملکی سفیر کے بغیر ہے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے آغاز کے فوراً بعد تمام مشن کے سربراہان شہر سے باہر منتقل ہو گئے تھے۔ دفتر خارجہ نے اپنے سفیر محمد مدثر ٹیپو کو بھی ہیڈ کوارٹر (پاکستان) واپس آنے کا آپشن دیا تھا، لیکن انہوں نے تہران میں ہی رکنے کو ترجیح دی۔ انتہائی بااثر سفارتی ذرائع نے جنگ کو بتایا کہ تہران یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تمام طلبہ بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ اتفاقاً پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا ہے، اور سفیر کے ساتھ قریب سے کام کرنے والے دو دیگر سفارت کار بھی اب تک تہران ہی میں مقیم ہیں۔ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ ’انقلاب‘ نامی علاقے میں واقع ہے، جہاں ’پاسدارانِ انقلاب‘ یا اسلامی انقلابی گارڈ کور کا ہیڈ کوارٹر بھی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سفیر مدثر ٹیپو پہلے ہی زیر تبادلہ ہیں؛ انہیں ازبکستان کے لیے سفیر نامزد کیا جا چکا ہے اور وہ احمد فاروق کی جگہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے اگلے چند ماہ میں تاشقند منتقل ہونے والے ہیں۔ سفیر کی رہائش گاہ آذربائیجان کے سفارت خانے کے بالکل برابر میں واقع ہے اور اس پورے علاقے کو انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔