کراچی (رفیق مانگٹ) مشرقِ وسطیٰ جنگ نازک مرحلے میں داخل، فوجی برتری کے باوجود سیاسی حکمتِ عملی غائب، اسرائیل کا مقصد ایران کے خطرے کا خاتمہ، مگر واشنگٹن کے دلائل متضاد، جنگ کے مقاصد پر سوالات شدت اختیار کر گئے۔ صرف ایک تہائی امریکی ایران جنگ کی حمایت میں، ماضی میں افغانستان جنگ پر تقریباً 90 فیصد امریکی حامی تھے۔ آبنائے ہرمز بندش اور توانائی تنصیبات پر حملے، تیل 83 ڈالر فی بیرل، 100 ڈالر ہونے پر عالمی معیشت کو بڑا دھچکا، برطانوی جریدہ لکھتا ہے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اگرچہ فوجی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کو واضح برتری حاصل ہے، واضح سیاسی حکمتِ عملی کے بغیر یہ جنگ طویل ہو کر علاقائی افراتفری، معاشی بحران اور ایران کے اندرونی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ ٹرمپ پر جنگ جلد ختم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔اکانومسٹ کے مطابق یہ کم ہی ہوتا ہے کہ ایک حکومت کا سربراہ دوسرے حکومت کے سربراہ کی موت کا حکم دے۔ مگر 28 فروری کو امریکہ کے صدر اور اسرائیل کے وزیر اعظم نے بالکل یہی کیا، جب انہوں نے ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا۔ اس جنگ میں اسرائیل کا مقصد واضح ہے ایران کی حکومت سے پیدا ہونے والے خطرے کو ختم کرنا۔