کراچی( ثاقب صغیر )ایف آئی اے نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں اربوں روپے کے کرپشن کا مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ انسدادبدعنوانی ایکٹ1947کی دفعہ5(2) کے تحت درج کیاگیا ہے، مقدمہ نیب کراچی کی ریفرنس کی بنیاد پرا یف آئی اے میں درج ہوا۔ مقدمے میں سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ احمدحیات نامزد اور سابق جنرل منیجر پی اینڈڈی کے پی ٹی سید جمشیدزیدی بھی نامزد ہیں۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملی بھگت سے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور بغیر کسی مسابقتی بولی کے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کو 124,126 مربع میٹر اضافی زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کی۔ اس بندر بانٹ اور ٹرمینل کی مدتِ معاہدہ میں غیر قانونی اضافے سے قومی خزانے کو 50.3 ارب روپے کا بھاری نقصان پہنچا۔ ایف آئی اے نے انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔مقدمہ کے مطابق قومی احتساب بیورو کراچی کے ریفرنس نمبر 3/2021 (جسے بعد ازاں "ریفرنس" کہا جائے گا) کو چیئرمین نیب کی جانب سے احتساب عدالت نمبر IV کراچی کے 28 فروری 2024 کے حکم کے تحت واپس کیے جانے کے نتیجے میں، ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کراچی میں انکوائری نمبر 15/2026 (جسے بعد ازاں "انکوائری" کہا جائیگا) درج کی گئی۔نیب نے اس ریفرنس میں وائس ایڈمرل (ر) احمد حیات ولد عبدالحیات، سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ(KPT)،بریگیڈیئر (ر) سید جمشید زیدی ولد سید متقی زیدی سابق جنرل منیجر (پی اینڈ ڈی) ڈویژن کے پی ٹی، خرم ساجد عباس ولد ساجد عباس، سابق سی ای او کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) اور میسرز کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) بذریعہ اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو بطور ملزمان نامزد کیا تھا ۔یہ ریفرنس احتساب عدالت نمبر IV میں زیر سماعت تھا جب اسے چیئرمین نیب کو واپس کیا گیا۔ چیئرمین نیب نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اس ریفرنس کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ دستیاب شواہد اور مواد کے جائزے سے جو حقائق سامنے آئے انکے مطابق امریکن پریزیڈنٹ لائنز لمیٹڈ (ریاست ڈیلاویئر، امریکہ میں رجسٹرڈ کمپنی، پتہ: 1111 براڈوے، اوکلینڈ، کیلیفورنیا 94607) اور انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سروسز انکارپوریشن (فلپائن میں رجسٹرڈ کمپنی، پتہ: ICTSI ایڈمنسٹریشن بلڈنگ، میکٹ ساؤتھ ایکسس روڈ، نارتھ ہاربر، منیلا) نے 1996 میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) بنیاد پر ایک تین فریقی معاہدہ کیا جسے امپلیمنٹیشن ایگریمنٹ 1996 (IA 1996) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں کمپنیوں نے 50 فیصد حصص کے ساتھ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل لمیٹڈ (KICT) قائم کیا اور ویسٹ وارف KPT میں برتھ نمبر 22، 23، 24 اور 24-A (600 میٹر سمندر کی جانب لمبائی) پر 136,222.4 مربع میٹر رقبے پر کنٹینر ٹرمینل قائم کیا۔ اس معاہدے کے مطابق ٹرمینل کو 21 سال بعد یعنی 2017 میں KPT کے حوالے کیا جانا تھا۔ کے آئی سی ٹی نے ٹرمینل آپریٹنگ کمپنی (TOC) کا کردار سنبھالا اور IA 1996 کے تحت KPT کو رائلٹی چارجز اور ہاربر ماسٹر سروسز (HMS) چارجز ادا کرنے تھے۔ KICT کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خرم ساجد عباس نے KPT کو فیز III کے قیام اور کنسیشن پیریڈ کو 2029 تک بڑھانے کی تجویز دی جو IA 1996 کی خلاف ورزی تھی۔ ابتدا میں کسٹمز کے نظرثانی شدہ معائنے کے طریقہ کار کے بہانے 7000 مربع میٹر رقبہ عارضی طور پر دیا گیا۔ بعد ازاں دسمبر 2005 میں KICT اور KPT کے درمیان ایک غیر قانونی "فرسٹ امینڈمنٹ ایگریمنٹ" کیا گیا جس کے تحت 124,126.15 مربع میٹر اضافی رقبہ فیز III کے نام پر KICT کے حوالے کیا گیا۔ یہ اقدام بغیر کسی اوپن یا مسابقتی بولی کے کیا گیا جو کے پی ٹی اسٹیٹ مینوئل 1983 کے باب 4 میں درج قواعد کی خلاف ورزی تھا اور IA 1996 کی شقوں کے بھی خلاف تھا جس میں ایسی اجازت موجود نہیں تھی۔ سال 2005 کی ترمیم کے ذریعے ابتدائی سائٹ (فیز I اور II) کے دائرہ کار کو غیر قانونی طور پر بڑھا دیا گیا حالانکہ یہ 2017 میں ختم ہونا تھا۔ IA 1996 کے آرٹیکل 21.3 کے مطابق KPT کو اس موقع پر نئی مسابقتی بولیاں طلب کرنا تھیں۔ مذکورہ خلاف ورزیوں یعنی 124,126.15 مربع میٹر اضافی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور کنسیشن مدت کو 2017 سے بڑھا کر 2029 تک کرنے سے درج ذیل نقصانات ہوئے۔ کم رائلٹی اور HMS چارجز کی مد میں 2,802,322,214 روپے۔ کے آئی سی ٹی کے اثاثے جو کے پی ٹی کو منتقل نہیں ہوئے ان کی مالیت 465,204,000 روپے ہے (KPT کے چیف اکاؤنٹس آفیسر مشہود احمد جان کے مطابق)۔pdwcp کی شرحوں کے مطابق 2017 سے 2029 تک متوقع نقصان 157,638,000 امریکی ڈالر ہے۔ HMS چارجز کی مد میں 12سال کا 3050,420,648 روپے ہے۔ وائس ایڈمرل احمد حیات (اس وقت کے چیئرمین KPT) اور جمشید زیدی (اس وقت کے جنرل منیجر P&D) نے باہمی ملی بھگت سے کے پی ٹی بورڈ سے اہم حقائق چھپائے۔