کراچی (رفیق مانگٹ) اسرائیل ہر چند سال بعد جنگ میں کیوں کود پڑتا ہے؟ اسرائیل کا طرزِ عمل غیر معمولی اور جارحانہ، امریکی یہودی سیاسیات دان فنکل اسٹین نے سوال کیا کہ گزشتہ دس برس میں ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کیا؟ “ہر دو تین سال بعد جنگ”۔۔عراق سے غزہ تک جنگوں کی فہرست، اسرائیلی میڈیا میں مسلسل جنگی بحث، کیا یہ معمول کی سیاست ہے۔ امریکی یہودی سیاسیات دان، مصنف اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نارمن گیری فنکل اسٹین نے اسرائیل کی جنگی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک ہر چند سال بعد کسی نہ کسی جنگ میں کود پڑتا ہے، جبکہ سوال اٹھایا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل کا طرزِ عمل غیر معمولی اور جارحانہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل بار بار جنگوں کی طرف جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسے ہر چند سال بعد کسی نئے تنازع یا جنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2003 میں عراق جنگ کے دوران اسرائیل اس کی حمایت کرنے والوں میں شامل تھا، 2006 میں لبنان کے خلاف جنگ ہوئی، 2008 اور 2009 میں غزہ پر حملے کیے گئے اور اب ایران پر ممکنہ حملے کی باتیں بھی زیرِ بحث رہتی ہیں۔ مبصر نے کہا کہ اگر اسرائیلی اخبارات کو روزانہ دیکھا جائے تو وہاں اکثر یہ بحث جاری رہتی ہے کہ آیا غزہ، لبنان، شام یا کسی اور ملک پر حملہ کیا جائے یا نہیں۔ ان کے بقول دنیا میں کم ہی ایسے ممالک ہیں جہاں اس نوعیت کی بحث اتنی تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہو۔