اسلام آباد ( مہتاب حیدر)آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (Federal Board of Revenue) کی آمدن بڑھانے کی صلاحیت پر اعتراض اٹھایا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب سپر ٹیکس ختم کرنے اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح کم کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اس وقت پاکستانی حکام کے ساتھ ورچوئل مذاکرات کر رہا ہے۔ فنڈ کے حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمات کے فیصلوں، ٹیکس نفاذ کی سختی اور سپر ٹیکس کی بقایا اقساط جیسے عارضی اقدامات کے ذریعے ایف بی آر جون 2026 تک تقریباً 13,400 سے 13,500 ارب روپے تک ٹیکس وصولی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں تو اگلے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس ہدف کیسے حاصل کیا جائے گا؟پاکستانی حکام نے جواب دیا ہے کہ یہ اقدامات صرف ایک بار کے نہیں ہوں گے کیونکہ زیر التوا ٹیکس مقدمات کے حل سے آئندہ بجٹ میں بھی اربوں روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے مئی 2026 میں آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے۔وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں حکومت نے حکمت عملی طے کی کہ آئی ایم ایف سے درخواست کی جائے کہ آئندہ بجٹ میں سپر ٹیکس ختم کیا جائے اور تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی جائے۔تاہم جمعہ کو ہونے والی ایک ورچوئل میٹنگ میں اس معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی۔ آئی ایم ایف نے اعتراض کیا کہ اگر مجموعی ٹیکس ہدف میں کمی کر دی جائے اور عارضی اقدامات کو قبول کر لیا جائے تو پھر اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس ہدف کیسے پورا کیا جائے گا۔حقیقت میں یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آئی ایم ایف سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز سے اتفاق کرے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سپر ٹیکس یکدم ختم کیا جاتا ہے تو تقریباً 150ارب روپے کی کمی کو حکومت کس ذریعے سے پورا کرے گی۔