کراچی ( سہیل افضل ) سندھ کابینہ نے بھی جامع کفایت شعاری پیکیج کی منظور ی دے دی، کفایت شعاری اقدامات سے 12 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع ‘سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں 2 ماہ کےلیے بند، پیٹرول کی فراہمی میں 50 فیصد کمی وزرا، معاونین اور مشیران خصوصی کی 3 ماہ کی تنخواہ اور الاونسز بند‘ ارکان اسمبلی کی تنخواہ میں 25 فیصد کٹوتی کی تجویز‘سرکاری عشائیوں اور بڑی تقریبات پر بھی پابندی عائد‘اعلیٰ افسران کی تنخواہ میں 2 روزکی کٹو تی، آخری سہ ماہی کےلیے حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی منظوری، 50 فیصد عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت‘ دفاتر میں 3 چھٹیاں‘ اسکولوں میں 16 سے 31 مارچ تک تعطیلات، کالجوں اور جامعات میں کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ،کا بینہ نے سندھ انفراسٹرکچر سیس ایکٹ 2026 میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔ کابینہ نے گندم اجرا پالیسی کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے نجی تاجروں کو بھی اس میں شامل کر لیا ، کابینہ نے جسٹس (ریٹائرڈ) ارشاد علی شاہ کو سندھ ریونیو بورڈ اپیلیٹ ٹریبونل کا چیئرمین مقرر کر دیا، تفصیلات کے مطابق منگل کووزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ نے توانائی کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے اور صوبے بھر میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جامع کفایت شعاری اور پیٹرول بچاؤ منصوبے کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی، معیشت، سماجی تحفظ اور تعلیم سے متعلق متعدد اصلاحات کی منظوری دے دی۔ کفایت شعاری منصوبے کے تحت حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول کی فراہمی میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی ہے جس سے تقریباً 960.55 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔ تاہم ایمبولینسز، بسوں اور ہنگامی خدمات جیسی آپریشنل گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ گریڈ 20 اور اس سے زائد کے وہ سینئر سرکاری افسران جو ماہانہ تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افسران کے علاوہ رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ ترک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔کابینہ نے موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے لیے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی منظوری بھی دی ہے، تاہم بجلی کے بلوں اور ادویات کی خریداری کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔