انصار عباسی
اسلام آباد :…وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی معاون ڈاکٹر سید توقیر شاہ کو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے تنظیم کی آئندہ 14ویں وزارتی کانفرنس (ایم سی 14) میں زرعی امور سے متعلق مذاکرات میں سہولت کار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس 26 سے 29؍ مارچ تک کیمرون میں منعقد ہوگی۔ سیاسی اور بیوروکریٹک حلقوں میں عام طور پر ڈاکٹر ٹی کے نام سے معروف سید توقیر شاہ اس وقت وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر وفاقی وزیر کا درجہ رکھتے ہیں اور وزیر اعظم کے دفتر کی نگرانی بھی انہی کے سپرد ہے۔ وہ عالمی تجارت کے سب سے متنازع اور پیچیدہ معاملات میں سے ایک یعنی زرعی شعبے سے متعلق مذاکرات میں رکن ممالک کے درمیان مشاورت کی قیادت کریں گے۔ زرعی شعبے کے حوالے سے مذاکرات کو ڈبلیو ٹی او کے فریم ورک میں سب سے پیچیدہ شعبہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان زرعی سبسڈی، منڈی تک رسائی اور غذائی تحفظ جیسے معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس؛ اس تنظیم کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہے جس کا اجلاس ہر دو سال بعد ہوتا ہے۔ اس سے قبل 13ویں وزارتی کانفرنس (ایم سی 13) متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں منعقد ہوئی تھی جہاں رکن ممالک کو زرعی امور، ماہی گیری کے حوالے سے سبسڈی اور ترقیاتی معاملات پر اختلافات کو ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سید توقیر شاہ کا انتخاب بین الاقوامی تجارتی سفارت کاری اور کثیرالجہتی مذاکرات میں ان کے وسیع تجربے کا اعتراف ہے۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک سینئر افسر کے طور پر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اس سے قبل جنیوا میں عالمی تجارتی تنظیم میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے ڈبلیو ٹی او کی کمیٹی برائے تجارت و ماحولیات کی سربراہی بھی کی۔ اپنی تعیناتی کے دوران وہ ایک تنازع حل کرنے والے پینل کا بھی حصہ رہے جس نے امریکا اور روس کے درمیان فولاد پر عائد ٹیکسز سے متعلق تجارتی تنازع کا تصفیہ کیا۔ وہ عالمی بینک گروپ میں پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایم سی 14؍ میں ان کی ذمہ داری ڈبلیو ٹی او کے رکن ممالک کے درمیان مشاورت کی رہنمائی کرنا اور زرعی سبسڈی، داخلی معاونت اور غذائی تحفظ سے متعلق اصلاحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس نوعیت کے سہولت کارانہ کردار عموماً ایسی شخصیات کو سونپے جاتے ہیں جن پر رکن ممالک کو وسیع اعتماد حاصل ہو۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر توقیر شاہ کی نامزدگی کثیرالجہتی تجارتی نظام میں پاکستان کیلئے ایک قابلِ ذکر اعتراف تصور کی جا رہی ہے۔